امریکہ اور ایران کی جنگ بندی میں پاکستان کا کلیدی کردار، ماہرین کی آراء
امریکہ اور ایران کی جنگ بندی میں پاکستان کا کلیدی کردار، ماہرین کی آراء

مزید خبریں
-
پشاور۔ 09 اپریل (اے پی پی):امریکہ اور ایران کے درمیان ایک اہم جنگ بندی کرانے میں اپنے کلیدی کردار کے بعد پاکستان ایک عالمی سفارتی قوت کے طور پر ابھرا ہے، یہ ایک ایسی پیش رفت ہے جس نے عالمی توجہ حاصل کرکے نئی امیدیں پیدا کی ہیں ، پاکستان نے دو ایسے دیرینہ حریفوں جن کے براہ راست سفارتی تعلقات نہیں ہیں کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہوئے آخری لمحات میں ہونے والے مذاکرات میں سہولت کاری کی جس کے نتیجے میں دو ہفتوں کی جنگ بندی اور اسٹریٹجک لحاظ سے اہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے۔
-
اس مداخلت نے مشرق وسطیٰ میں ایک ممکنہ طور پر تباہ کن کشیدگی کو روکنے میں مدد دی جبکہ عالمی رہنماؤں نے جنگ بندی کا خیرمقدم کیا اور تناؤ کم کرنے کےلیے پاکستان کی بھرپور کوششوں کا اعتراف کیا، یہ جنگ بندی عالمی سطح پر امن لانے والے کے طور پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی عکاسی کرتی ہے جو بحران کے وقت بڑی طاقتوں کے ساتھ مثبت انداز میں انگیج ہونے کی پاکستان کی صلاحیت کو اجاگر کرتی ہے۔ آنے والے مذاکرات کی میزبانی اور تصادم کے بجائے مکالمے کو فروغ دے کر اسلام آباد نے خود کو بین الاقوامی سفارت کاری میں ایک غیر جانبدار اور معتبر ثالث کے طور پر منوایا ہے۔
-
یہ اہم پیش رفت مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک وسیع تر علاقائی تنازع کے خدشات مسلسل بڑھ رہے تھے جس کی وجہ سے فوری جنگ بندی ناگزیر ہو گئی تھی۔ سابق سفیر منظور الحق نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ بندی بڑی حد تک پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے، پاکستان نے واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ بیک چینل کمیونیکیشن میں فعال حصہ لیا اور صورتحال کو پرامن بنانے کے لیے اپنے دیرینہ تعلقات کا فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے تنازعات کے حتمی اور جامع حل کےلیے دونوں ممالک کے وفود کو مزید مذاکرات کےلیے اسلام آباد مدعو کیا ہے، وزیراعظم کی اس دعوت کو بین الاقوامی سطح پر نمایاں توجہ اور پذیرائی ملی ہے۔
-
پشاور یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے سابق چیئرمین ڈاکٹر اعجاز خان نے امریکہ ۔ایران بحران کو ختم کرنے میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کو قابلِ ستائش قرار دیا اورکہا کہ پاکستان نے مستقل طور پر تحمل پر زور دیا اور مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے تصادم کے بجائے مکالمے کو ضروری قرار دیا۔ ان کوششوں نے مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں مدد دی جس نے بالآخر جنگ بندی کی راہ ہموار کی۔ انہوں نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کی سہولت کاری پر وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ عالمی برادری اور عالمی میڈیا نے پاکستان کے مثبت کردار کو بڑے پیمانے پر سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جنگ بندی آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی تجارت کی ہموار ترسیل کو یقینی بنانے میں مدد دے گی اور دونوں ممالک کے درمیان حتمی معاہدے کی جانب پیش رفت میں معاون ثابت ہوگی۔
-
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی تیزی سے بڑھی جس نے امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست فوجی تصادم کے خدشات پیدا کر دیئے۔ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ معاشیات کے سابق چیئرمین ڈاکٹر ذلاکت ملک نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کرانے میں پاکستان کے سفارتی کردار کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ عالمی منڈیوں میں غیر یقینی کی صورتحال تھی، علاقائی اتحادی ممکنہ اثرات کےلیے خود کو تیار کر رہے تھے جب اس کشیدہ ماحول میں پاکستان کی مداخلت بروقت اور اسٹریٹجک ثابت ہوئی، جنگ بندی نے عالمی تیل کی تجارت پر مثبت اثرات مرتب کئے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی آئی۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات پر روشنی ڈالتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ پاکستان نے دائمی امن، علاقائی استحکام اور سفارتی شمولیت پر زور دیا ہے۔ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر کام کرتے ہوئے پاکستان نے دونوں اطراف کے ساتھ رابطے برقرار رکھے۔
-
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان پر ایران کے اعتماد اور امریکہ کے ساتھ پاکستان کے ورکنگ ریلیشن شپ نے اسے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے ایک منفرد مقام فراہم کیا۔ بین الاقوامی مبصرین نے بھی اس کوشش کی تعریف کی اور اس بات پر زور دیا کہ پاکستان جیسی سنجیدہ طاقتیں تنازعات کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔اس پیش رفت نے عالمی امن کے اقدامات میں ایک ذمہ دار اسٹیک ہولڈر کے طور پر اسلام آباد کے تشخص کو تقویت دی ہے۔ پاکستان کے اندر تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اس سفارتی کامیابی کا خیرمقدم کیا ہے اور اس جنگ بندی کو پرامن طریقے سے تنازعات کے حل کے لیے ملک کے عزم اور اس کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کا ثبوت قرار دیا ہے۔
-
ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ کامیابی عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی وقار میں اضافہ کر سکتا ہے۔ دریں اثنا، اس جنگ بندی کو معاشی استحکام کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ امریکہ اور ایران دونوں نے کم از کم جنگ بندی کی مدت تک مزید کشیدگی سے بچنے کا اشارہ دیا ہے اگرچہ بنیادی تناؤ ابھی تک حل طلب ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے کا انحصار مسلسل مکالمے اور اعتماد سازی کے اقدامات پر ہوگا۔ پشاور یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر زاہد انور کا کہنا ہے کہ ثالث کے طور پر پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو ملک مستقبل میں امن کی کوششوں میں مدد کے لیے تیار ہے۔
-
انہوں نے کہا کہ تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری کو ہی بنیادی ذریعہ رہنا چاہیے، خاص طور پر ان خطوں میں جہاں جنگ کے نتائج شدید ہو سکتے ہیں۔ جیسا کہ عالمی برادری قریب سے مشاہدہ کر رہی ہے، اس جنگ بندی کی سہولت کاری میں پاکستان کا کردار مکالمے، اعتماد سازی اور بروقت مداخلت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ اگرچہ چیلنجز برقرار ہیں، لیکن تناؤ میں یہ کامیاب کمی شدید جغرافیائی و سیاسی دباؤ کے درمیان سفارت کاری کی جیت کی ایک امید افزا مثال ہے۔ ماہرین نے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے دورانیے میں ایک جامع اور پائیدار امن معاہدہ طے پا جائے گا، یہ ایک ایسا نتیجہ ہوگا جسے خطے میں طویل مدتی امن اور ترقی کےلیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔








