بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی، حریت رہنما الطاف احمد شاہ کی بگڑتی ہوئی صحت پر حکومت پاکستان کی شدید تشویش سے آگاہ کیا

اسلام آباد۔3اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے اسلام آباد میں متعین بھارت کے ناظم الامور کو وزارت خارجہ میں طلب کرکے حریت رہنما الطاف احمد شاہ کی بگڑتی ہوئی صحت پر حکومت پاکستان کی شدید تشویش سے آگاہ کیا جو نئی دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں گزشتہ پانچ سال سے نظر بند ہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے پیر کو جاری بیان کے مطابق بھارتی ناظم الامور کو بتایا گیا کہ گردے کے کینسر میں مبتلا الطاف احمد شاہ کو مناسب طبی امداد فراہم کرنے میں بھارتی حکام کی ناکامی انتہائی مایوس کن ہے، اس لاپرواہی کے نتیجے میں حریت رہنما کی حالت خراب ہورہی ہے اور کینسر ان کے جسم کے دیگر حصوں میں پھیل رہا ہے۔

ترجمان نے اس بات پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا کہ الطاف احمد شاہ کے اہل خانہ کی جانب سے بھارتی وزیراعظم کو لکھے گئے خطوط سمیت متعدد بار اپیلوں کے باوجود ان کی صحت کے حوالے سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

ترجمان نے کہا کہ بھارتی حکومت کی بے حسی اس حقیقت سے عیاں ہے کہ الطاف احمد شاہ ابھی تک ہسپتال میں داخل نہیں ہوئے۔انہوں نے کہا کہ بیماری کی حد کا اندازہ لگانے کے لیے ڈاکٹر کی جانب سے تشخیصی ٹیسٹوں کا فوری بندوبست کرنے کے مشورے کے باوجود ان کے ٹیسٹ غیر معمولی تاخیر سےکیے گئے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ یہ امر افسوسناک ہے کہ بھارتی حکام الطاف احمد شاہ کے خاندان کو ان سے ملنے کی اجازت دینے سے مسلسل انکار کر رہے ہیں، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان کی درخواست ضمانت کی عدالتی سماعت میں بھی تاخیر ہو رہی ہے۔

واضح رہے کہ الطاف احمد شاہ کو حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی کے داماد ہونے کی وجہ سے اذیت اور سزا دی جا رہی ہے۔ بھارت کے ناظم الامور کو کہا گیا کہ وہ بھارتی حکومت کو پاکستان کے اس مطالبے سے آگاہ کرے کہ الطاف احمد شاہ کو فوری طور پر طبی امداد فراہم اور جیل سے رہا کیا جائے۔

ترجمان کے مطابق بھارتی حکومت پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ کشمیری عوام کی آواز کو دبانے کے لیے غیر قانونی نظربندیوں اور فرضی مقدمات کے ذریعے کشمیری عوام کے حقیقی نمائندوں کو نشانہ بنانے سے باز رہے۔