قربانی پاکستان میں منفرد احساس کا حامل جذبہ ہے ، شہدا کی یاد اور قربانی کی بے حرمتی کیسے کی جاسکتی ہے، صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ بل 2022 کی منظوری دے دی

اسلام آباد۔6اگست (اے پی پی):صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ قربانی پاکستان میں منفرد احساس کا حامل جذبہ ہے،جن لوگوں کو اللہ نےشہید کا درجہ دیا ہے ،ان کی یاد اور قربانی کی بے حرمتی کیسے کی جاسکتی ہے۔،تمام اہل وطن کی طرح میں نے ہمیشہ شہداء کی تعریف کی ہے، شہدا کے سینکڑوں خاندانوں سے ملاقات کے علاوہ ان کے جنازہ میں شرکت کے ساتھ ساتھ شہداء کے اہل خانہ سے مل کر تعزیت بھی کی ہے۔ صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ہیلی کاپٹر حادثہ میں شہید ہونے والے پاک فوج کے افسران اور جوانوں کے اہل خانہ کو فون کیا۔

ہفتہ کوایوان صدر میڈیا ونگ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے گزشتہ دنوں بلوچستان میں پیش آنے والے ہیلی کاپٹر حادثہ میں شہید ہونے والے پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کے غمزدہ اہل خانہ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔ انہوں نے لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی شہید کے بیٹے کیپٹن احمد علی سے گفتگو کی اور اہل خانہ سے تعزیت بھی کی۔ صدرمملکت نے ایک سچے، دلیر، ہنرمند اور رہنما افسر کے طور پر ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہی قربانیوں کی وجہ سے آج پاکستان مضبوط طور پر کھڑا ہے۔

صدر عارف علوی نے بریگیڈیئر خالد شہید کے جواں بیٹے سعد سے ٹیلیفون پر بات کی اور ان سے تعزیت کی۔ انہوں نے سعد سے کہا کہ وہ اپنی ماں، دادی اور خاندان کا شکریہ ادا کرے کہ ان کے بہادر باپ نے ایک عظیم قربانی دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یقینا اس طرح کے واقعات سے ہماری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں لیکن ہمیں پاکستان کے بہادر بیٹوں پر فخر ہوتاہے۔ڈاکٹر عارف علوی نے( میجر جنرل بننے والے) بریگیڈیئر امجد حنیف شہید کے بھائی میجر اسد کو بھی فون کیا اور اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ مجھے بریگیڈیئر صاحب پر فخر ہے، انہوں نے ان کے خاندان کیلئے عزم اور ہمت کی بھی دعا کی۔

صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے تیس سالہ نوجوان نائیک مدثر فیاض شہید کے اہل خانہ کو فون کیا اور تعزیت کی جن کے خاندان کو ان کی شہادت پر فخر ہے اور ہمیشہ شہداء کے تمام خاندانوں کی طرح مدثر فیاض شہید کے اہل خانہ بھی یہ کہتے ہیں کہ خاندان کے دوسرے افراد بھی شہادت کیلئے تیار ہیں۔صدرمملکت نے کہا کہ قربانی کاجذبہ پاکستان میں منفرد خصوصیت کا حال ہے جسے محفوظ رکھا گیا ہے۔ معاون پائلٹ میجر طلحہ منان شہید جو دو چھوٹے چھوٹے بیٹوں کے والد ہیں، بچوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدرمملکت نے ان کیلئے خاندان کے دیگر افراد کیلئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افواج کے ادارہ نے ہمیشہ شہداء کے خاندانوں کی اچھی دیکھ بھال کی ہے۔

صدرمملکت نے امید ظاہر کی کہ تاہم یہ نقصان تکلیف دہ ہے لیکن وہ بڑے ہوکر اپنے والد پر فخر کریں گے، انشاء اللہ” ڈاکٹر عارف علوی نے میجر سعید احمد شہید کے بھائی سکواڈرن لیڈر امیر علی سے گفتگو کرتے ہوئے میجر سعید احمد شہید کو ایک بہترین پائلٹ قرار دیا جن کا اپنی سروس میں بہترین کیریئر ہے۔ صدر نے کہا کہ پوری قوم کو ان پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے اہل خانہ سے گفتگو کا مقصد ملک کیلئے ان کی قربانیوں کا اعتراف اور ستائش ہے۔انہوں سوگوار خاندانوں کیلئے صبرجمیل کی دعا بھی کی۔ دریں اثناء صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ہیلی کاپٹر کے شہدا کے نماز جنازہ میں عدم شرکت پر ”غیرضروری تنازعہ” کے حوالہ سے مختلف ٹویٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے ٹویٹس کرنے والوں کے اس اقدام سے مجھے ان کے نفرت انگیز ٹویٹس کی واضح طور پر مذمت کا موقع ملا ہے، ایسے افراد نہ تو ہماری ثقافت اور نہ ہی ہمارے مذہب سے واقف ہیں۔

ڈاکٹر عارف علوی نے قرآنی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ جن لوگوں کو اللہ نےشہید کا درجہ دیا ہے ،ان کی یاد اور قربانی کی بے حرمتی کیسے کی جاسکتی ہے۔ صدرمملکت نے کہا کہ تمام پاکستانیوں کی طرح میں نے بھی ساری زندگی شہداء کی تعریف کی ہے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ میں نے شہدا کے سینکڑوں خاندانوں کو بلایا ہے، ان کے نماز جنازہ میں شرکت کی ہے اور تعزیت کیلئے شہدا کے اہل خانہ سے ملاقاتیں کی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ آپ کی طرف سے ایسا کرنا میں اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ شہداء پر اہل خانہ کو فخر ہے، ہم سب اس دنیا میں غمگین ہیں اور ذاتی نقصان کو تسلیم کرتے ہیں۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ جن خاندانوں میں چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ان کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرنا بڑا کٹھن اور مشکل تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب شہداء کے اہل خانہ روتے ہیں تو میں بھی ان کے غم میں برابر کا شریک ہوتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ شہداء کی لازوال قربانیوں کی وجہ سے ہی پاکستان محفوظ ہے اسی چیز پر مجھے پاکستان پر فخر ہے۔