نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)اسلام آباد نے سابقہ گرل فرینڈ کو قتل کرنے کے ارادے اور اس سلسلے میں مصنوعی ذہانت کے جدید ٹول "کلاڈ اے آئی”سمیت دیگر ڈیجیٹل مواصلاتی پلیٹ فارمز کے مبینہ غلط استعمال پر باقاعدہ ایف آئی آر درج کر لی
قتل کی منصوبہ بندی کے لیے مصنوعی ذہانت کا مبینہ استعمال،این سی سی آئی اے اسلام آباد نے مقدمہ درج کر لیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی):نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)اسلام آباد نے سابقہ گرل فرینڈ کو قتل کرنے کے ارادے اور اس سلسلے میں مصنوعی ذہانت کے جدید ٹول "کلاڈ اے آئی”سمیت دیگر ڈیجیٹل مواصلاتی پلیٹ فارمز کے مبینہ غلط استعمال پر باقاعدہ ایف آئی آر درج کر لی ۔ ترجمان کے مطابق، ایجنسی کی جانب سے مکمل کی گئی ابتدائی انکوائری کے بعد یہ مقدمہ درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزم نے مبینہ طور پر قتل کے ارتکاب اور طریقہ کار سے متعلق تجاویز و آئیڈیاز حاصل کرنے کے لیے اے آئی پلیٹ فارم کا سہارا لیا، ان الزامات پر مزید قانونی کارروائی اور جامع تفتیش کا عمل جاری ہے۔این سی سی آئی اے کے ترجمان نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے ائی) کے ٹولز اور تمام ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا استعمال انتہائی ذمہ داری کے ساتھ کیا جائے اور انہیں کسی بھی قسم کی دھمکی، ہراسانی یا مجرمانہ سرگرمی کے لیے ہرگز استعمال نہ کیا جائے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ ایجنسی سائبر ذرائع سے جنم لینے والے جدید خطرات سے نمٹنے، شہریوں کی جان و مال کے تحفظ اور قانون کے مطابق شفاف تفتیش کے ذریعے ملزمان کے احتساب کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے.








