پاکستان کو سیلاب کے باعث قرض واپسی میں ریلیف فراہم دیا جائے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے سربراہ کی کابل میں مسجد کے باہر دھماکے کی مذمت

اقوام متحدہ۔23ستمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ نےکہا کہ پاکستان کو قرض دینے والے ممالک کو قرضوں کی واپسی میں ریلیف دینے پر غور کرنا چاہئے تاکہ پاکستانی حکام سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سرگرمیوں پر توجہ زیادہ مرکوز کرسکیں۔ جرمن نشریاتی ادارے کے مطابق برطانوی اخبار فنانشئل ٹائمز نے اقوام متحدہ کی ایک پالیسی دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیلاب کے باعث پاکستان کے مالیاتی بحران میں کافی اضافہ ہوا ہے اس لیے پاکستان کو بین الاقوامی قرضوں کی ادائیگی میں ریلیف اور قرضوں کی تنظیم نو کرنی چاہئے۔

پاکستان میں حالیہ سیلاب سے 3کروڑ 30لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں اور 1576 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ تاہم اموات کی اصل تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے جبکہ نقصانات کا تخمینہ 30 ارب ڈالر سے زیادہ کا ہے۔ اخبار نے کہا ہے کہ پالیسی دستاویز، جسے اقوام متحدہ کا ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) رواں ہفتے حکومت پاکستان کے ساتھ شیئر کرے گا، میں کہا گیا ہے کہ ملک کو قرضے دینے والے ممالک کو قرضوں کی واپسی میں ریلیف دینے پر غور کرنا چاہئے تاکہ پاکستانی پالیسی سازوں کو قرض کی ادائیگی پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کے بجائے سیلاب کی تباہی سے پیدا شدہ حالات کے مدنظر راحت اور امدادی کاموں کو ترجیح دینے کا زیادہ موقع مل سکے۔

حکومت پاکستان اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریسں نے سیلاب کے لیے ماحولیاتی تبدیلی کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ پالیسی دستاویز میں قرضوں کی تنظیم نو یا تبادلہ کی تجویز پیش کی گئی ہے، جس کے تحت قرض دہندگان پاکستان کی طرف سے موسمیاتی تبدیلیوں سے بچنے والے انفراسٹرکچر کی تیاری میں سرمایہ کاری پر رضامندی کے بدلے میں قرض کی ادائیگیوں میں ریلیف فراہم کریں گے۔