لاہور ۔ 24 اگست (اے پی پی) حکومت توانائی کے شعبے میں ماضی کے پیدا کردہ مسائل کو حل کرنے کی کوشش کررہی ہے، 90کی دہائی میں آئی پی پیز کے ساتھ ہونے والے معاہدے 25سال کے لیے ہمارے گلے میں پڑ گئے، موجودہ حکومت ان معاہدوں پر دوبارہ نظر ثانی کررہی ہے اور اس سلسلہ میں ایک مفاہمتی یاداشت پر دستخط بھی ہو چکے ہیں، ان خیالات کا اظہاروفاقی …
،وفاقی وزیر برائے تعلیم و پروفیشنل ٹریننگ شفقت محمود کا 220کے وی غازی روڈ جی آئی ایس گرڈ سٹیشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب

مزید خبریں
لاہور ۔ 24 اگست (اے پی پی) حکومت توانائی کے شعبے میں ماضی کے پیدا کردہ مسائل کو حل کرنے کی کوشش کررہی ہے، 90کی دہائی میں آئی پی پیز کے ساتھ ہونے والے معاہدے 25سال کے لیے ہمارے گلے میں پڑ گئے، موجودہ حکومت ان معاہدوں پر دوبارہ نظر ثانی کررہی ہے اور اس سلسلہ میں ایک مفاہمتی یاداشت پر دستخط بھی ہو چکے ہیں، ان خیالات کا اظہاروفاقی وزیر تعلیم و پروفیشنل ٹریننگ شفقت محمود نے پیر کے روز 220کے وی غازی روڈ جی آئی ایس گرڈ سٹیشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کیا، اس موقع پر لیسکو چیف مجاہد پرویز چھٹہ مینجنگ ڈائریکٹر نیسپاک ڈاکٹر طاہرمسعود ،مینجنگ ڈائریکٹر این ٹی ڈی سی خواجہ رفعت حسین بھی موجود تھے، وفاقی وزیر شفقت محمود نے این ٹی ڈی سی کو 220کے وی گرڈ سٹیشن کی تکمیل پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں بجلی کے مسائل کی وجہ سے ملکی ترقی متاثر ہوئی کیونکہ بجلی کے بغیر صنعت کا پہیہ نہیں چل سکتا، اس کے ساتھ ساتھ شہریوں کو بھی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کودور کرنے کے لیے ضروری اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ماضی کے پیدا کردہ بجلی کے شعبہ کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، 90کی دہائی میں جب بجلی کا بحران آیا تو آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے کرلیے گئے ہیں جن کی وجہ سے بجلی کے معاملے میں تو آفاقہ ہوا تاہم یہ معاہدے مختلف چارجز کی وجہ سے ہمارے گلے میں پڑ گئے کیونکہ پاور سیکٹر چلے نہ چلے حکومت نے پیسے دینے ہیں تاہم حکومت وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں ان معاہدوں پر نظر ثانی کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ حکومت آئی پی پیز کے خلاف ہے، ہم چاہتے ہیں کہ آئی پی پیز اپنا کردار ادا کریں لیکن ان معاہدوں پر نظر ثانی کر کے ان کو متوازن بنانا ضروری ہے جس کے لیے حکومت کاوش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مہمند ‘بھاشا ڈیم سمیت دیگر ڈیم بن رہے ہیں جس کا مقصد پانی ذخیرہ کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کو سستے داموں بجلی فراہم کرنا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک میں سرکلرڈیٹ 2000ارب سے تجاوز کر چکا جب ہم نے حکومت سنبھالی تو 1400 ارب روپے سر کلر ڈیٹ تھا جس کی بنیادی وجہ پیداواری لاگت کا زیادہ ہونا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت سے سرکلر ڈیٹ میں کمی ہو گی۔ وفاقی وزیر نے بجلی کے پیداواری اور ڈسٹری بیوشن کے قومی اداروں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ان اداروں کو سروسز کی فراہمی میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے اور محبت کے جذبے کے ساتھ عوام کی شکایت کا ازالہ ہوگا‘قبل ازیں وفاقی وزیر نے 220کے وی جی آئی ایس گرڈ سٹیشن کا افتتاح کیا۔







