اسلام آباد۔24جنوری (اے پی پی):انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز (آئی آر ایس)اسلام آباد نے وسطی ایشیا پروگرام برائے علاقائی تعاون و روابط کے تحت ایک اعلیٰ سطحی پری ایونٹ کا انعقاد کیاجس کا عنوان “اسلام آباد اور آستانہ کے درمیان تعاون کے ایکشن پلان کو سمجھنا” تھا۔ یہ تقریب قازقستان کے صدرکسیم جومارٹ توقایف کے فروری 2026 میں پاکستان کے پہلے سرکاری دورے سے قبل منعقد کی گئی۔تقریب میں سفارت کاروں، …
آئی آرایس کے زیراہتمام وسطی ایشیا پروگرام برائے علاقائی تعاون و روابط کے تحت اعلیٰ سطحی پری ایونٹ کا انعقاد، دوطرفہ ایکشن پلان پر غور اور تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے امکانات پر تبادلہ خیال
اسلام آباد۔24جنوری (اے پی پی):انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز (آئی آر ایس)اسلام آباد نے وسطی ایشیا پروگرام برائے علاقائی تعاون و روابط کے تحت ایک اعلیٰ سطحی پری ایونٹ کا انعقاد کیاجس کا عنوان “اسلام آباد اور آستانہ کے درمیان تعاون کے ایکشن پلان کو سمجھنا” تھا۔ یہ تقریب قازقستان کے صدرکسیم جومارٹ توقایف کے فروری 2026 میں پاکستان کے پہلے سرکاری دورے سے قبل منعقد کی گئی۔تقریب میں سفارت کاروں، ماہرین تعلیم اور پالیسی ماہرین نے شرکت کی جہاں پاکستان اور قازقستان کے درمیان دوطرفہ ایکشن پلان پر غور اور تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
آئی آر ایس کے صدر سفیر جوہر سلیم نے افتتاحی خطاب میں قازقستان کے سفیر یرژان کستافین کا خیرمقدم کیا اور صدر توقایف کے آئندہ دورے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے پاکستان اور قازقستان کے درمیان مضبوط سیاسی تعلقات اور مشترکہ ثقافتی ورثے کو اجاگر کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ تاریخی روابط کو عملی اور نتیجہ خیز تعاون میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دورہ دوطرفہ مفاہمت، عملی روابط اور علاقائی سفارتی تعاون کے فروغ میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔
بطورمہمانِ خصوصی لیکچر دیتے ہوئے سفیر یرژان کستافین نے دونوں ممالک کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کا ذکر کیا اور یاد دلایا کہ پاکستان 1991 میں قازقستان کی آزادی کو تسلیم کرنے والے اولین ممالک میں شامل تھا۔انہوں نے ابتدائی اعلیٰ سطحی روابط کو دہائیوں پر محیط مضبوط سفارتی تعلقات کی بنیاد قرار دیا۔قازقستان کے سفیر نےعلاقائی روابط اور اقتصادی تعاون کو قازقستان کی اسٹریٹجک ترجیح قرار دیتے ہوئے کاروبار سے کاروبار روابط، انفراسٹرکچر کی ترقی اور تجارتی سہولت کاری کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ قازقستان خود کو لینڈ لاکڈ کے بجائے لینڈ لنکڈ ملک بنانے کا خواہاں ہےجس کے لیے وسطی ایشیا کو مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور چین سے جوڑنے والے علاقائی منصوبے اہم ہیں۔ اس تناظر میں قراقرم ہائی وے اور ممکنہ ریلوے روابط کو پاکستان–قازقستان روابط کے لیے کلیدی قرار دیا گیا۔انہوں نےٹیکسٹائل، دواسازی، مالیاتی شعبہ بشمول اسلامی بینکاری، تعلیم، سیاحت، کھیل اور ثقافت جیسے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات کی نشاندہی کی تاکہ عوامی سطح پر روابط کو فروغ دیا جا سکے۔ علاقائی سلامتی، منشیات کی اسمگلنگ اور لسانی رکاوٹوں جیسے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون اور مکالمے پر بھی زور دیا گیا۔
نوجوانوں کے تبادلے، ثقافتی سرگرمیوں اور تعلیمی اشتراک کو باہمی سمجھ بوجھ کے فروغ کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا۔سوال و جواب کے سیشن میں ٹرانسپورٹ اور ریلوے روابط، علاقائی سلامتی، تجارتی سہولت کاری، دفاعی تعاون اور نوجوانوں کے کردار پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ شرکاء نے پرامن تعلقات، علاقائی روابط اور اقتصادی و ثقافتی تعاون کے فروغ کو مشترکہ ترجیح قرار دیا۔
اختتامی خطاب میں سفیر جوہر سلیم نے پاکستان–قازقستان تعلقات کے مستقبل پر امید کا اظہار کیا اور وسطی ایشیا پروگرام سربراہی حمزہ رفعت کے ذریعے علاقائی آگاہی کے فروغ کے لیے آئی آر ایس کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے آذربائیجان کی وسطی ایشیائی ترقیاتی فریم ورک میں شمولیت کا خیرمقدم کرتے ہوئے ادارے کے نصب العین “اپنے ہمسایوں کو جانو” کو دوہرایا اور کہا کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ مسلسل مکالمہ اور باخبر روابط پائیدار دوستی اور تعاون کے لیے ناگزیر ہیں۔









