وفاقی وزیر مواصلات عبد العلیم خان کی زیر صدارت ایکسل لوڈ کنٹرول رجیم سے متعلق اجلاس، ملک بھر کے وے سٹیشنز کو سو فیصد خودکار بنانے کا حکم

وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان نے ایکسل لوڈ کنٹرول رجیم کے مستقل اور پائیدار حل کے لیے حائل تمام قانونی اور آپریشنل رکاوٹیں دور کرنے کی غرض سے این ایچ اے کے قانونی فریم ورک میں ایک ہفتے کے اندر ضروری ترامیم لانے، فیکٹریوں پر جرمانوں کے نفاذ اور موٹرویز و قومی شاہراہوں پر جدید ترین کیمروں اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ذریعے مکمل آٹومیشن نافذ کرنے کی ہدایت …

اسلام آباد۔28اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان نے ایکسل لوڈ کنٹرول رجیم کے مستقل اور پائیدار حل کے لیے حائل تمام قانونی اور آپریشنل رکاوٹیں دور کرنے کی غرض سے این ایچ اے کے قانونی فریم ورک میں ایک ہفتے کے اندر ضروری ترامیم لانے، فیکٹریوں پر جرمانوں کے نفاذ اور موٹرویز و قومی شاہراہوں پر جدید ترین کیمروں اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ذریعے مکمل آٹومیشن نافذ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

یہ ہدایت انہوں نے جمعہ کو ایکسل لوڈ کنٹرول رجیم سے متعلق ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔ اجلاس میں وفاقی سیکرٹری مواصلات، چیئرمین این ایچ اے، آئی جی موٹروے پولیس، ڈی جی این ایل سی اور ڈی جی ایف ڈبلیو او سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی اور امور کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ قانونی ترامیم کا بنیادی مقصد ایکسل لوڈ کے نفاذ میں پیش آنے والی تمام قانونی اور آپریشنل رکاوٹوں کو جڑ سے ختم کرنا ہے تاکہ قومی اثاثے یعنی سڑکوں کے انفراسٹرکچر کو تباہی سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرکوں پر زیادہ وزن لادنے کا سبب بننے والی فیکٹریوں کی باقاعدہ نشاندہی کر کے اب ان پر بھی بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔عبدالعلیم خان نے ٹرانسپورٹرز کو گاڑیوں کے ڈھانچے پر واضح رہنمائی فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ گاڑیوں پر ایسے غیر ضروری اور بھاری آرائشی سامان کے استعمال سے روکا جائے جو محض گاڑی کا وزن بڑھانے کا سبب بنتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے ملک بھر کے وے سٹیشنز کو 100 فیصد خودکار بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ تمام مال بردار گاڑیوں کا وے سٹیشنز سے گزرنا لازمی قرار دیا جائے تاکہ قطاروں اور وقت کے ضیاع کا خاتمہ ہو۔ انہوں نے موٹرویز کی طرز پر جی ٹی روڈز پر بھی وے سٹیشنز قائم کرنے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کو ٹریک کرنے کے لیے جدید کیمروں اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد لی جائے۔ انہوں نے کراچی پورٹ پر این ایچ اے، این ایل سی اور ایف ڈبلیو او کو مشترکہ حکمت عملی اپنانے کا حکم بھی دیا۔اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ سنگجانی میں بین الاقوامی معیار کا جدید ماڈل وے اسٹیشن جلد مکمل کر لیا جائے گا، جبکہ گزشتہ 6 ماہ میں ایکسل لوڈ کی 30 ہزار خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئیں جن کے باعث سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ کسی بھی منصوبے میں محض موجودہ حالات نہیں بلکہ آئندہ 20 سال کی ضروریات کو مدنظر رکھا جائے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ موٹرویز پر ایکسل لوڈ رجیم کے زمینی نفاذ کا خود جائزہ لینے کے لیے 10 مختلف مقامات کے ہنگامی دورے کریں گے۔