آئی ایس ایس آئی کا سالانہ ڈائیلاگ فورم ’’ری امیجنگ ساؤتھ ایشیا‘‘ کے موضوع پر مرکوز ہوگا

اسلام آباد۔30نومبر (اے پی پی):انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) اپنے سالانہ نمایاں ڈائیلاگ فورم “اسلام آباد کنکلیو” کا انعقاد 3 اور 4 دسمبر کو کرے گا جو اس فورم کا پانچواں ایڈیشن ہوگا۔ رواں سال کنکلیو کا مرکزی موضوع “ری امیجنگ ساؤتھ ایشیا: سکیورٹی، اکانومی، کلائمٹ، کنیکٹیویٹی” ہے۔ اتوار کوجاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق اسلام آباد کنکلیو گزشتہ برسوں میں ایک اہم ٹریک …

اسلام آباد۔30نومبر (اے پی پی):انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) اپنے سالانہ نمایاں ڈائیلاگ فورم “اسلام آباد کنکلیو” کا انعقاد 3 اور 4 دسمبر کو کرے گا جو اس فورم کا پانچواں ایڈیشن ہوگا۔ رواں سال کنکلیو کا مرکزی موضوع “ری امیجنگ ساؤتھ ایشیا: سکیورٹی، اکانومی، کلائمٹ، کنیکٹیویٹی” ہے۔ اتوار کوجاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق اسلام آباد کنکلیو گزشتہ برسوں میں ایک اہم ٹریک 1.5 پلیٹ فارم کے طور پر ابھرا ہے جہاں پاکستان کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ نمایاں سکالرز، ماہرین، پالیسی سازوں اور ملکی و غیر ملکی تجزیہ کاروں کو یکجا کیا جاتا ہے۔

یہ کنکلیو علاقائی و عالمی تبدیلیوں پر غور و فکر کے ساتھ ان کے وسیع اثرات کا جائزہ لیتا ہے اور پاکستان کے لیے قابل عمل اور مستقبل بین پالیسی تجاویز پیش کرنے کا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے،موجودہ دور میں جیوپولیٹیکل تغیرات، معاشی بے یقینی، موسمیاتی خطرات اور کنیکٹیویٹی کے فقدان نے خطے کے تزویراتی ماحول کو بدل کر رکھ دیا ہے، اسلام آباد کنکلیو کا مقصد تعاون پر مبنی حل اور بامعنی مکالمہ کو فروغ دینا ہے۔آج جنوبی ایشیا ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔

یک قطبی دور کے خاتمے اور کثیر قطبیت کے ابھرنے نے بڑی طاقتوں کی مسابقت میں اضافہ، علاقائی حساسیت کو بڑھایا اور روایتی و غیر روایتی سیکیورٹی چیلنجز کو تبدیل کر دیا ہے۔ دیرینہ تنازعات، جوہری خطرات، سرحد پار دہشتگردی، موسمیاتی آفات اور کمزور معاشی انضمام خطے کی بے پناہ صلاحیت کو محدود کیے ہوئے ہیں۔اسی تناظر میں کنکلیو کے مرکزی موضوع کو پانچ ذیلی مباحث میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں ارتقا پذیر کثیر قطبیت میں علاقائی سکیورٹی آرڈر، ابھرتے ہوئے تزویراتی و سکیورٹی چیلنجز، سرحد پار دہشتگردی اور جنوبی ایشیا کو درپیش خطرات،معیشت اور موسمیاتی تبدیلی اور جنوبی ایشیا میں علاقائی روابط شامل ہیں۔افتتاحی اجلاس کے بعد ہر ذیلی موضوع پر الگ ورکنگ سیشن ہوں گےجن میں قومی و بین الاقوامی ماہرین اپنی علمی و تجرباتی آراء پیش کریں گے۔

اختتامی اجلاس میں بحث و مباحثے سے سامنے آنے والی اہم سفارشات کو یکجا کیا جائے گا۔ڈائریکٹر جنرل آئی ایس ایس آئی سفیر سہیل محمود نے کہا کہ اس سال کا کنکلیو وسعت، گہرائی اور شرکاء کی سطح کے لحاظ سے پہلے سے زیادہ بہتر ہوگا۔ ممتاز ماہرین اپنے خیالات پیش کریں گے کہ جنوبی ایشیا کس طرح پیچیدہ چیلنجز کے باوجود ترقی، امید اور خوشحالی کی راہ اپنا سکتا ہے۔ یہ دراصل اجتماعی طور پر سوچنے کا عمل ،سکیورٹی، معیشت، ماحول اور روابط کے کلیدی شعبوں میں جنوبی ایشیا کا نیا تصور تشکیل دیناہے۔اسلام آباد کنکلیو کو پاکستان کے تھنک ٹینک کی بنیاد پر قائم اہم ترین ٹریک 1.5 پالیسی ڈائیلاگ کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے اور ہر ایڈیشن نے اس فورم کے علمی و پالیسی اثرات میں اضافہ کیا ہے۔

2024 کے کنکلیو کا موضوع “پاکستان اور بدلتا عالمی منظرنامہ” تھا۔پانچویں ایڈیشن کا مقصد اس مثبت روایت کو مزید بلند کرتے ہوئے جامع تجزیات، قابل عمل حکمت عملیوں اور ایک زیادہ پرامن، باہم مربوط اور خوشحال جنوبی ایشیا کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنا ہے۔آئی ایس ایس آئی اس پلیٹ فارم کے ذریعے مکالمے کے فروغ، پاکستان کے سفارتی اہداف کی تکمیل اور علاقائی تعاون پر مبنی حل کے حصول کے لیے سرگرم ہے۔

 

مزید خبریں