اسلام آباد۔28نومبر (اے پی پی):انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد(آئی ایس ایس آئی )کے انڈیا اسٹڈی سینٹر میں جموں و کشمیر پر مبنی نئی ترمیم شدہ جلد کی تقریب رونمائی منعقد کی گئی، جس کا عنوان "بدلتی ہوئی دنیا میں کشمیر کا سوال – اگست 2019 سے آگے" ہے۔ کتاب 12 ابواب پر مشتمل ہے جسے پاکستان، آزاد جموں و کشمیر اور دنیا بھر کے ممتاز ماہرین و اسکالرز …
آئی ایس ایس آئی کے انڈیا اسٹڈی سینٹر میں کشمیر پر نئی ترمیم شدہ جلد کی رونمائی، ماہرین کا جامع تجزیہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔28نومبر (اے پی پی):انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد(آئی ایس ایس آئی )کے انڈیا اسٹڈی سینٹر میں جموں و کشمیر پر مبنی نئی ترمیم شدہ جلد کی تقریب رونمائی منعقد کی گئی، جس کا عنوان "بدلتی ہوئی دنیا میں کشمیر کا سوال – اگست 2019 سے آگے” ہے۔ کتاب 12 ابواب پر مشتمل ہے جسے پاکستان، آزاد جموں و کشمیر اور دنیا بھر کے ممتاز ماہرین و اسکالرز نے مشترکہ طور پر تحریر کیا ہے۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی ممتاز کشمیری رہنما ڈاکٹر غلام نبی فائی تھے جبکہ دیگر مقررین میں ڈاکٹر ولید رسول، الطاف حسین وانی اور سفیر بابر امین شامل تھے۔
ڈاکٹر فائی نے اپنے خطاب میں کہا کہ کشمیر تنازعہ پر اکثر ایسی کتابیں سامنے آتی رہی ہیں جن میں بھارتی نقطہ نظر کا غلبہ ہوتا ہے اور کشمیری عوام کی اصل آوازیں غائب ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز کی اس کاوش نے کشمیری مصنفین کی شمولیت کے ذریعے حقیقی انسانی تجربات کو اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر کا مسئلہ کسی سرحدی تنازعے کا نہیں بلکہ لاکھوں کشمیریوں کی امنگوں کا مسئلہ ہے اور عالمی سطح پر کشمیر کاز کے لیے ہمدردی موجود ہے جسے مؤثر سفارتی حکمت عملی کے ذریعے منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس ایس آئی سفیر سہیل محمود نے کہا کہ کتاب 5 اگست 2019 کے بھارتی غیر قانونی اقدامات کے بعد کشمیری عوام کو درپیش سیاسی، سماجی اور انسانی بحران کی تفصیلی تصویر پیش کرتی ہے۔
انہوں نے بھارتی سکیورٹی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، آبادیاتی انجینئرنگ، سیاسی دباؤ، صحافیوں اور نوجوانوں کے خلاف کریک ڈاؤن سمیت دیگر سنگین اقدامات کا حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے نزدیک بات چیت ہی واحد راستہ ہے مگر ایسی گفتگو کسی بھی غیر قانونی اقدام کو جواز فراہم نہیں کر سکتی۔ ڈائریکٹر انڈیا اسٹڈی سینٹر ڈاکٹر خرم عباس نے کہا کہ یہ کتاب کشمیر تنازعے کے مختلف پہلوؤں کو اصل تناظر میں پیش کرنے کی ایک علمی کاوش ہے۔
ڈاکٹر ولید رسول نے کتاب کو موجودہ کشمیری ادب میں اہم اضافہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے کشمیر پر تقریباً 25 کتابوں پر پابندی لگا کر اس حقیقت کو مزید واضح کیا ہے کہ اسے کشمیری عوام سے زیادہ صرف زمین سے دلچسپی ہے۔ الطاف حسین وانی نے کہا کہ کتاب ایسے بنیادی سوالات اٹھاتی ہے جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور یہ طلبہ و محققین کے لیے قابلِ قدر رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
سفیر بابر امین نے اسے ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب نہ صرف تنازعے کے سیاسی و قانونی پہلوؤں بلکہ انسانی قیمت، عالمی ردِعمل اور خطے میں امن کے مستقبل کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ آخر میں چیئرمین آئی ایس ایس آئی سفیر خالد محمود نے کہا کہ حقِ خودارادیت اقوام متحدہ کا تسلیم شدہ بنیادی حق ہے اور کشمیری عوام کی جدوجہد جلد اپنے منطقی انجام تک پہنچے گی کیونکہ اس کی بنیاد انصاف پر ہے۔ کتاب کی رونمائی میں ماہرین، محققین، سفارتکاروں اور متعدد طلبہ نے شرکت کی۔








