اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):انسٹی ٹیوٹ آف سٹرٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے انڈیا سٹڈی سینٹر (آئی ایس سی ) میں مصنف سعود سلطان کی کتاب ’’جموں و کشمیر – دی فارگاٹن نیریٹیو: فرام ڈسٹورٹڈ اوریجنز ٹو ڈینائیڈ فریڈم‘‘ کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل(ر) زبیر محمود حیات تھے۔دیگر مقررین میں سابق صدر آزاد جموں و …
آئی ایس ایس آئی کے انڈیا سٹڈی سینٹر میں مصنف سعود سلطان کی کتاب "جموں و کشمیر – دی فارگاٹن نیریٹیو: فرام ڈسٹورٹڈ اوریجنز ٹو ڈینائیڈ فریڈم” کی تقریبِ رونمائی

مزید خبریں
اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):انسٹی ٹیوٹ آف سٹرٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے انڈیا سٹڈی سینٹر (آئی ایس سی ) میں مصنف سعود سلطان کی کتاب ’’جموں و کشمیر – دی فارگاٹن نیریٹیو: فرام ڈسٹورٹڈ اوریجنز ٹو ڈینائیڈ فریڈم‘‘ کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل(ر) زبیر محمود حیات تھے۔دیگر مقررین میں سابق صدر آزاد جموں و کشمیر و سفیر سردار مسعود خان، بزرگ کشمیری رہنما و سابق کنوینر آل پارٹیز حریت کانفرنس (اے پی ایچ سی) آزاد کشمیر چیپٹر فاروق رحمانی اور پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چوہدری شامل تھے۔تقریب کے آغاز میں ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی ایس سفیر سہیل محمود نے کتاب کو جموں و کشمیر کے تنازعہ کی تاریخ نویسی میں اہم اضافہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مصنف سعود سلطان جو ایک ممتاز کشمیری خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، نے اپنی تحقیق کو غیر جانب دار، مستند اور آرکائیوز، عینی شاہدین کے بیانات اور چھپائےگئے تاریخی حقائق پر مبنی رکھا۔سفیر سہیل محمود نے بتایا کہ کتاب پانچ اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہے۔
یہ کتاب جموں قتلِ عام 1947 کی مفصل دستاویزی شہادت فراہم کرتی ہے۔ کتاب بھارتی دعوے کی تردید کرتی ہے کہ بھارت کی فوجی مداخلت "قبائلی حملے” کے ردِعمل میں تھی۔ مصنف نے ثابت کیا کہ پونچھ اور میرپور میں مقامی بغاوت اور 24 اکتوبر 1947 کو آزاد جموں و کشمیر کے قیام جیسے عوامل زیادہ اہم تھے کتاب اس قانونی جواز کو چیلنج کرتی ہے کہ مہاراجہ نے 26 اکتوبر 1947 کو الحاق کا معاہدہ دستخط کیا۔ مصنف نے ثابت کیا کہ یہ معاہدہ اس وقت موجود نہیں تھا جب 27 اکتوبر کو بھارتی فوجیں سری نگر اتریں۔ کتاب آزاد کشمیر میں موجود آزادیوں کا موازنہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم و جبر سے کرتی ہے۔چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل(ر) زبیر محمود حیات نے اپنے خطاب میں کہا کہ جموں و کشمیر کے اصل بیانیے کو بھارت نے دانستہ طور پر دفن کرنے کی کوشش کی ہے۔ سعود سلطان کی کتاب نے تاریخی حقائق کے ناقابلِ تردید شواہد فراہم کئے ہیں جو بھارتی دعوؤں کو غلط ثابت کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کتاب واضح طور پر ثابت کرتی ہے کہ پاکستان نے نہیں بھارت نے کشمیر پر حملہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ کتاب میں "کواڈ” یعنی پٹیالہ فورسز، اکالی جتھے، ڈوگرہ فوج اور آر ایس ایس کے کارکنوں کے کردار کو بے نقاب کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے اقوامِ متحدہ میں اپنی شکایت میں جموں قتلِ عام کے اصل حقائق کو چھپایا جبکہ سعود سلطان نے اپنی تحقیق سے حقائق کو ثابت کیا۔ انہوں نے کتاب کو تاریخی سچائی کو بحال کرنے کی ایک بڑی کوشش قرار دیا۔پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ کتاب نے "بھولا ہوا بیانیہ” زندہ کر دیا ہے اور نوجوان نسل کو جموں قتلِ عام جیسے اہم مگر نظرانداز شدہ تاریخی حقائق سے روشناس کرایا ہے۔سردار مسعود خان نے کہا کہ سعود سلطان کی کتاب نے ایک بڑی تاریخی کمی کو پورا کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کشمیریوں کی جدوجہد 1830 کی دہائی میں شروع ہوئی تھی اور 19 جولائی 1947 کو مسلمانوں نے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کر لیا تھا۔ انہوں نے جموں قتلِ عام کو نسل کُشی قرار دیا جس کے نتیجے میں جموں کی مسلم آبادی بہت کم ہو گئی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے قبائلیوں کے آنے سے پہلے ہی کشمیر پر حملہ کر دیا تھا۔ سردار مسعود خان نے زور دیا کہ اس کتاب کا بیانیہ عالمی برادری کو آگاہ کرنے کے لیے نہایت اہم ہے،خصوصاً مئی 2025 کی بھارت-پاکستان کشیدگی کے بعد جب کشمیر کا مسئلہ دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بنا۔ڈاکٹر خرم عباس ڈائریکٹر آئی ایس سی نے کہا کہ کتاب کی بڑی خوبی یہ ہے کہ مصنف نے اپنی تحقیق میں زیادہ تر بھارتی ذرائع اور عالمی سطح کے معروف محققین کے کاموں سے استفادہ کیا۔ معروف کشمیری اسکالر وکٹوریہ اسکوفیلڈ کا پیش لفظ کتاب کی اہمیت میں مزید اضافہ کرتا ہے۔مصنف سعود سلطان نے کہا کہ ان کی تحقیق کا سب سے اہم پہلو اقوامِ متحدہ میں بھارت کے پیش کردہ سرکاری بیانیے کو براہِ راست چیلنج کرنا ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ 26 اکتوبر 1947 کو مہاراجہ نے الحاق نامہ پر دستخط نہیں کئے جیسا کہ بھارت دعویٰ کرتا ہے۔ برطانوی مورخ الاسٹر لیمب کی تحقیق نے بھی اس نتیجے کی تائید کی ہے کہ بھارت کی فوجی کارروائی مکمل طور پر غیر قانونی تھی۔








