آئی ایم ایف عالمگیروباءکے معاشی اورسماجی اثرات سے نمٹنے کیلئے پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا

اسلام آباد ۔ 21 اپریل (اے پی پی) پاکستان میںبین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی کنٹری نمائندہ ماریہ ٹیریزا دبن سانچیز نے کہاہے کہ کوروناوائرس کی عالمگیروباءکے معاشی اورسماجی اثرات سے نمٹنے کیلئے آئی ایم ایف پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔یہ بات انہوں نے ایس ڈی پی آئی کے زیراہتمام پالیسی ڈائیلاگ میں گفتگو کرتے ہوئے کہی ۔انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف پاکستان میں زری اور کلی معاشی …

اسلام آباد ۔ 21 اپریل (اے پی پی) پاکستان میںبین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی کنٹری نمائندہ ماریہ ٹیریزا دبن سانچیز نے کہاہے کہ کوروناوائرس کی عالمگیروباءکے معاشی اورسماجی اثرات سے نمٹنے کیلئے آئی ایم ایف پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔یہ بات انہوں نے ایس ڈی پی آئی کے زیراہتمام پالیسی ڈائیلاگ میں گفتگو کرتے ہوئے کہی ۔انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف پاکستان میں زری اور کلی معاشی استحکام کیلئے مرتب کردہ پالسیوں اوراقدامات کی حمایت کرتاہے اوراسے سراہتاہے،وباءقبل پاکستان کی اقتصادی کارگردگی اطمینان بخش تھی۔انہوں نے کہاکہ وباءسے نمٹنے کیلئے اقدامات کے ضمن میں آئی ایم ایف نے ریپڈفنانس انسٹرومنٹ کے طریقہ کارکے تحت پاکستان کومعاونت فراہم کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا تجزیہ یہ ہے کہ کورونا وائرس کی وباءکی وجہ سے پاکستان کے قرضوں میں کمی کا عمل واپس جائے گا اس کے نتیجہ میں بنیادی خسارہ میں بھی اضافہ ہوگا۔انہوں نے وباءسے نمٹنے کیلئے پاکستان کے فوری اقدامات بشمول معاشرے کے کمزورطبقات کیلئے نقد رقوم کی ادائیگی ، پالیسی ریٹ میں کمی، طبی اورضروری اشیاءخوراک کی درآمد پرڈیوٹیز کے خاتمہ کو سراہا۔ تعمیرات کے شعبہ کو کھولنے پرتبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف مزدور طبقہ کے اس شعبہ کو کھولنے کی حمایت کرتاہے کیونکہ اس سے یومیہ اجرت پرکام کرنے والے مزدوروں کوبراہ راست فائدہ ہوگا تاہم ہم یہ امیدرکھتے ہیں کہ صورتحال معمول پرآنے کے بعد تعمیراتی شعبہ میں سرمایہ کاری پرمراعات کوبتدریج واپس لیاجائے گا کیونکہ طویل عرصہ تک ضابطوں میں نرمی سے مسائل جنم لیتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کیلئے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام جاری ہے، ہمارا پاکستان کے حکام کے ساتھ قریبی رابطہ ہے، پاکستان کے حوالہ سے اگلے جائزہ کا انعقاد ورچوئل ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ وباءکی وجہ سے چونکہ وسط مدتی اقتصادی پیش منظرتبدیل ہورہا ہے اس کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف پاکستان کے حوالہ سے اہداف کو ہم آہنگ کررہا ہے، یہ بات انتہائی حوصلہ افزاءہے کہ پاکستان کے حکام صورتحال معمول پرآنے کے بعد مالیاتی استحکام اوراصلاحات کے عمل میں پرعزم ہے۔ پاکستان کی مجموعی معیشت پر وباءکےاثرات کا ذکرکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس کے نتیجہ میں پاکستان کی برآمدات متاثرہوں گی، ترسیلات زرمیں کمی آئے گی، اوربڑھوتری منفی 1.5 تک گرسکتی ہے، اسی صورتحال سے نمٹنے کیلئے آئی ایم ایف نے ریپڈفنانس انسٹرومنت کے طریقہ کارکے تحت پاکستان کومعاونت فراہم کی ہے تاکہ مالیات کے حوالہ سے فوری ضروریات کو پوراکیاجاسکے۔