اسلام آباد ۔ 5 مارچ (اے پی پی)وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ حکومت کا یہ آخری پروگرام ہے، معیشت میں بہتری کے گرین سگنلز مل رہے ہیں، سیمنٹ کی کھپت میں زبردست اضافہ ہوا ہے، پچھلے 3ماہ میں بیرون ملک سے 13 فیصد زیادہ زر مبادلہ آیا، مہنگائی کی شرح 14فیصد سے کم ہو کر 12.4 فیصد کی سطح پر …
آئی ایم ایف کے ساتھ حکومت کا یہ آخری پروگرام ہے، معیشت میں بہتری کے گرین سگنلز مل رہے ہیں، وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی صحافیوں سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 5 مارچ (اے پی پی)وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ حکومت کا یہ آخری پروگرام ہے، معیشت میں بہتری کے گرین سگنلز مل رہے ہیں، سیمنٹ کی کھپت میں زبردست اضافہ ہوا ہے، پچھلے 3ماہ میں بیرون ملک سے 13 فیصد زیادہ زر مبادلہ آیا، مہنگائی کی شرح 14فیصد سے کم ہو کر 12.4 فیصد کی سطح پر آگئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی شعبے کی بحالی میں بہت مثبت پیش رفت ہے، سی پیک کااہم ترین مرحلہ اقتصادی زونز کا قیام ہے، اس سال سی پیک کے تین خصوصی اقتصادی زون بنائیں گے، پاکستان سرمایہ کاروں کی دلچسپی کا مرکز بن رہا ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے پانی کے مسائل پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ خان پور ڈیم سے اسلام آباد اور راولپنڈی کو 103 ملین گیلن یومیہ پانی حاصل کرنے کا حق حاصل ہے، ہم مشکل سے 2.5 ملین گیلن پانی حاصل کر رہے ہیں جبکہ 5 ملین گیلن پانی حاصل کرنے کی سکیم موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی چوری کو روکنے کے لیے وفاقی اور صوبائی محکموں کی نمائندگی کے ساتھ ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کا مقصد 2.5 ملین گیلن پانی کی چوری رکوانا ہے جس سے چند مہینوں میں اسلام آباد اور راولپنڈی میں مزید پانی آنا شروع ہو جائے گا۔ وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ بقایا 5 ملین گیلن پانی کا حق حاصل کرنے کے لیے انفراسٹرکچر پر کام کرنے کی ہدایات دے دی گئی ہیں۔ ان اقدامات کی تکمیل سے راولپنڈی اسلام آباد میں 2.5 کروڑ گیلن سے پانی کی فراہمی 10 کروڑ گیلن تک ممکن ہو سکے گی۔ وفاقی وزیر اسد عمر نے بتایا کہ غازی بروتھا سکیم سے پانی کی فراہمی پر منظوری دلوا دی گئی ہے اس کی فیزیبلٹی پر کام شروع ہو چکا ہے۔ بین الاقوامی کنسلٹنٹ کے لیے اشتہارات بھی دیدیئے گئے ہیں۔ وزیر منصوبہ بندی و ترقی نے کہا کہ ایک سال تک خان پور سے پانی اور 3 سے 4 سال تک غازی بروتھا سے پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ ان اقدامات سے اسلام آباد میں 13.5 کروڑ گیلن یومیہ پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کے فور اور کے سی آر کے منصوبوں کی تکمیل کے لیے پوری طرح تعاون کرے گا، کوشش ہو گی یہ منصوبے جلد از جلد شروع ہو سکیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ لیاری ایکسپریس وے، ناردرن بائی پاس اور ریلوے فریٹ کوریڈور جیسے بڑے منصوبوں پر بھی حکومت کام کر رہی ہے۔ گرین لائن منصوبے پر امید کرتے ہیں موجودہ سال کام مکمل ہو جائے گا۔







