آئی ایم ڈی سی کی پہلے کلینیکل اے آئی ہیلتھ کیئر سرٹیفکیٹ پروگرام کی تکمیل

اسلام آباد میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کا پہلا کلینیکل اے آئی ہیلتھ کیئر سرٹیفکیٹ پروگرام کامیابی سے مکمل، پی ایم ڈی سی کی جانب سے کاوش کو سراہا گیا

اسلام آباد۔5ستمبر (اے پی پی):اسلام آباد میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج (آئی ایم ڈی سی) نے ملک میں صحت کی تعلیم کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) سے ہم آہنگ کرنے کی جانب اہم پیش رفت کرتے ہوئے اپنے پہلے کلینیکل اے آئی ہیلتھ کیئر سرٹیفکیٹ پروگرام کی کامیابی سے تکمیل کرلی جسے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے سراہتے ہوئے تیزی سے بدلتے طبی منظرنامے کے لیے صحت کے شعبے کے پیشہ ور افراد کو تیار کرنے کی جانب اہم کاوش قرار دیا ہے۔

ہفتہ کو آئی ایم ڈی سی کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق چار ہفتوں پر مشتمل 10 کریڈٹ آورز کا پروگرام شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے اشتراک سے منعقد کیا گیا جس میں 24 میڈیکل و ڈینٹل طلبہ اور صحت کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد نے صحت میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے عملی استعمال کی تربیت حاصل کی۔پروگرام کی اسناد تقسیم کرنے کی تقریب کے مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج تھے جنہوں نے آئی ایم ڈی سی کے اقدام اور جدت کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ طبی تعلیم کو پیشے اور صحت کے نظام کی بدلتی ضروریات کے مطابق مسلسل آگے بڑھانا ناگزیر ہے۔ پی ایم ڈی سی کے رجسٹرار بریگیڈیئر (ریٹائیرڈ) ڈاکٹر سید ریحان نقوی اور ڈائریکٹر اکیڈمکس ڈاکٹر ستارہ کے ساتھ یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر سید تنصیر اصغر اور ہیڈ آف میڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹر فوزیہ سلطانہ بھی تقریب میں موجود تھے۔اس موقع پر پی ایم ڈی سی اور شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے اعلیٰ حکام نے کالج کی جدید کمپیوٹر لیبارٹری کا بھی دورہ کیا، جہاں کلینیکل اے آئی کی عملی تربیت کے لیے خصوصی سہولیات قائم کی گئی ہیں۔ یونیورسٹی کی انتظامیہ نے آئی ایم ڈی سی کے اقدام کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اے آئی کی تعلیم، تحقیق اور جدت کے شعبوں میں ادارے کے ساتھ طویل مدتی تعلیمی شراکت داری کے عزم کا اظہار کیا۔آئی ایم ڈی سی نے پی ایم ڈی سی کے اعتماد اور حوصلہ افزائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ حکومتِ پاکستان اور پی ایم ڈی سی کی جدت، ٹیکنالوجی اور طبی تعلیم کے مستقبل سے متعلق سمت اور روڈ میپ سے ہم آہنگ رہتے ہوئے صحت کی تعلیم میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے انضمام کو آگے بڑھاتا رہے گا۔جی اے کے ہیلتھ کیئر انٹرنیشنل اور آئی ایم ڈی سی کے گروپ سی ای او یاسر خان نیازی نے کہا کہ دنیا بھر میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس صحت کی خدمات کی فراہمی کو تیزی سے تبدیل کر رہی ہے اور پاکستان بھی صحت کے شعبے میں ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ جو ادارے آج اس تبدیلی کو سمجھیں گے، وہی کل کے صحت کے نظام کی تشکیل میں قائدانہ کردار ادا کریں گے۔یاسر نیازی نے کہا کہ آئی ایم ڈی سی کے پہلے کلینیکل اے آئی بیچ کی تکمیل اس کے طویل المدتی وژن کا پہلا اہم سنگِ میل ہے۔ ہم اے آئی کو محض ایک نئے مضمون کے طور پر پڑھانے کے بجائے اسکو میڈیکل، ڈینٹل، نرسنگ اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز کی تعلیم میں اور ڈیجیٹل میڈیسن اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں متعارف کرانا چاہتے ہیں، تاکہ ہمارے گریجویٹس صرف مستقبل کی ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے نہ ہوں بلکہ اس کے ذریعے جدت اور بہترین کارکردگی دکھانے کے قابل ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی کا اصل مقصد معیاری صحت کی سہولیات کو زیادہ قابلِ رسائی بنانا ہے۔ کالج ایک ایسے مربوط صحت کے نظام کا تصور رکھتا ہے جہاں بڑے ہسپتالوں کے ساتھ مقامی کلینکس اور جنرل پریکٹیشنرز بھی اے آئی اور عالمی طبی پیش رفت سے فائدہ اٹھا کر مریضوں کو بروقت اور معیاری علاج فراہم کر سکیں۔ یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے ہم ٹیکنالوجی کو اپنے وژن ’سب کے لیے معیاری صحت‘ کو آگے بڑھانے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔اس کلینیکل اے آئی پروگرام کو السٹر یونیورسٹی، بیلفاسٹ، برطانیہ سے وابستہ اور آئی ایم ڈی سی میں اے آئی کے ایڈجنکٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد عثمان ہادی کی علمی معاونت حاصل ہے، جو ادارے کے کلینیکل اے آئی پروگرام اور اس کی ترقی میں بین الاقوامی علمی و تحقیقی تجربہ فراہم کر رہے ہیں۔پہلے پروگرام کی کامیاب تکمیل کے بعد کالج نے اپنے سینٹر فار اے آئی اِن ہیلتھ کیئر کو مزید وسعت دینے کے ساتھ اے آئی پروگرامز اور تحقیق کو آگے بڑھانے پر کام تیز کر دیا ہے۔ یہ مرکز کلینیکل اے آئی کی تعلیم، عملی تحقیق، جدت اور ملکی و بین الاقوامی تعاون کے لیے ایک جامع پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا۔