آب و ہوا کی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے اور سستی نقل و حمل کی پیش کش کے لئے الیکٹرک وہیکل پالیسی کو منظوری دےدی گئی ہے،ملک امین اسلم خان

لاہور۔9نومبر (اے پی پی):وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس نے ہمیں ماحولیاتی حدود کا تعین اوراس کا احترام کرنا سکھایا ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ موقع بھی فراہم کیا ہے کہ ہم اس بات کا تعین کر سکیں کہ چھوٹے چھوٹے اقدامات کرکے ہم آلودگی کو کم کر کے کیا فرق لا سکتے ہیں۔ یہ بات انہو …

لاہور۔9نومبر (اے پی پی):وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس نے ہمیں ماحولیاتی حدود کا تعین اوراس کا احترام کرنا سکھایا ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ موقع بھی فراہم کیا ہے کہ ہم اس بات کا تعین کر سکیں کہ چھوٹے چھوٹے اقدامات کرکے ہم آلودگی کو کم کر کے کیا فرق لا سکتے ہیں۔ یہ بات انہو ں نے اپنے دورہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دوران کہی۔اس موقع پر صدر لاہور چیمبر میاں طارق مصباح، سینئر نائب صدر ناصر حمید خان، سابق صدر سہیل لاشاری، ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر ان سجاد افضل، عظمیٰ شاہد، شاہد نذیر، ملک ریاض اقبال اور سلیم اصغر بھٹی بھی موجود تھے۔امین اسلم خان نے کہا کہ حکومت نے گرین سٹیمولس کا اعلان کیا ہے،اس اقدام کا مقصد گرین ریکوری کا آغاز کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صرف پچھلے 15 سالوں میں لاہور شہر ہی اپنا 70 فیصد جنگل کا احاطہ کھو چکا ہے اور یہ شہر میں سموگ کے بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سموگ کا 40 فیصد پھیلاو ٹرانسپورٹ کی وجہ سے ہے اور اس مسئلے کا مقابلہ کرنے کے لئے اب ہم یورو 2 کی بجائے یورو 5 ایندھن فراہم کررہے ہیں،10 بلین سونامی ٹری روزگار کے مواقع پیدا کررہا ہے، ایسا نہیں ہے کہ ہم صرف درخت لگاتے ہیں، ہم سبز معیشت کو بھی ترقی دے رہے ہیں، کے پی کے میں سبز معیشت نے نصف ملین ملازمتیں پیدا کیں، یہ ملازمتیں عام طور پر ہریالی کو فروغ دینے کے لئے قائم نرسریوں اور جنگل کی آگ کو روکنے سے متعلق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہری جنگلات بہت ضروری ہیں، شہروں میں جنگل کے احاطہ کو بڑھانے کے لئے ہم نے لاہور میں 100 ایسی جگہوں کی نشاندہی کی ہے جہاں چھوٹے جنگلات کو قائم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد قومی پارکوں کی ترقی اور حفاظت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ملک بھر میں بہت سے قومی پارکوں کا اعلان کیا ہے اور لاہور کے قریب بلوکی میں 3500 ایکڑ پر مشتمل ایک قومی پارک قائم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ماحولیاتی سیاحت کو فروغ دینے کے لئے نیشنل پارک سروس شروع کرنے جا رہی ہے۔مشیر نے کہا کہ لٹرنگ قانون پہلے ہی منظوری کے لئے سینیٹ میں موجود ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ماحول کی بہتری کے لئے 35 اشارے قائم کر دیئے ہیں، ڈی سی اور بعد میں ناظم مخصوص صنعت / علاقے کی کارکردگی کا اندازہ کریں گے اور ہم اے سی آر کو بھی اس سے جوڑ رہے ہیں، کارکردگی کی تشخیص اور اقوام متحدہ کی ہیبیٹاٹ تیسری پارٹی کے جائزہ کار کی حیثیت سے اس عمل کی نگرانی کر رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جس صنعت میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ دیکھنے میں آئے گا اس کو انعام دیا جائے گا اور دیگر کو بھی جرمانہ کیا جائے گا۔ امین اسلم نے کہا کہ آب و ہوا کی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے اور سستی نقل و حمل کی پیش کش کے لئے الیکٹرک وہیکل (ای وی) پالیسی کو منظوری دے دی گئی ہے۔صدر لاہور چیمبر نے کہا کہ ماحولیاتی ترقی کی ذمہ داری وزارت ماحولیات پر عائد ہوتی ہے جس میں موسمیاتی تبدیلیوں کے سلسلے میں قوانین و ضوابط، قومی پالیسی کے بیانات اور قومی ماحولیاتی معیارات شامل ہیں۔میاں طارق مصباح نے مزید کہا کہ ”ایک ذمہ دار قوم کی حیثیت سے ہمیں سمجھداری سے جواب دینا ہوگا کیونکہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے مختلف منظرناموں کے تحت شدیدخطرہ والا ملک قرار دیا گیا ہے۔” 1999 سے 2018 تک آب و ہوا کی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں پانچواں مقام پاکستان کا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اس عرصے میں سالانہ 3.8 بلین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے، اس کے علاوہ ایک بہت بڑا جانی نقصان بھی ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، جنگلات کی کٹائی، زمین کی کمی اور پانی کی کمی ملک میں آب و ہوا کی تبدیلی کی سب سے بڑی وجوہات ہیں جن کا پاکستان میں زراعت اور خوراک کی حفاظت پر بھی منفی اثر پڑ رہا ہے۔صدر لاہور چیمبر نے وزارت ماحولیات پر زور دیا کہ وہ آب و ہوا میں ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے زراعت آب و ہوا کے علاقوں کی نئی تعریف میں اپنا کردار ادا کرے کیونکہ اس کے لئے فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ضروری ہے، اس معاملے کے لئے حکومت کو بیجوں اور فصلوں کی موسم سے بچنے والی اقسام کی ترقی کے لئے تحقیق میں سرمایہ کاری کرنا چاہئے۔انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے جرات مندانہ اقدامات کرنے پر حکومت کی تعریف کیاور کہا کہ پاکستان کا بلین ٹری پروگرام موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات پر قابو پانے کے لئے یقینی طور پر ایک اہم کردار ادا کرے گا۔لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر ناصر حمید خان نے کہا کہ بھوسے کو جلایا جانے کا معاملہ ابھی حل نہیں ہوا ہے۔