آتھورائزڈ اکنامک آپریٹر پروگرام پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر ماڈل کسٹمز کولیکٹوریٹ پورٹ قاسم کراچی میں اکتوبر میں شروع کیا جائے گا، ایف بی آر

اسلام آباد ۔ 2 ستمبر (اے پی پی) حکومت نے ملک بھر میں تجارت اور کاروبار کے فروغ کے لئے اقدامات اٹھائے ہیں اور آتھورائزڈ اکنامک آپریٹر (اے ای او) پروگرام اس مقصد کے حصول کے ضمن میں ایک اہم قدم ہے، پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر ماڈل کسٹمز کولیکٹوریٹ پورٹ قاسم کراچی میں برآمدات کے لئے اے ای او پروگرام اکتوبر 2020 میں شروع کیا جائے گا۔ یہ بات …

اسلام آباد ۔ 2 ستمبر (اے پی پی) حکومت نے ملک بھر میں تجارت اور کاروبار کے فروغ کے لئے اقدامات اٹھائے ہیں اور آتھورائزڈ اکنامک آپریٹر (اے ای او) پروگرام اس مقصد کے حصول کے ضمن میں ایک اہم قدم ہے، پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر ماڈل کسٹمز کولیکٹوریٹ پورٹ قاسم کراچی میں برآمدات کے لئے اے ای او پروگرام اکتوبر 2020 میں شروع کیا جائے گا۔ یہ بات فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کی طرف سے یہاں جاری ہونے والے بیان میں کہی گئی ہے۔ترجمان نے کہاکہ آتھو رائزڈ اکنامک آپریٹر پروگرام کو قانونی شکل دینے کے لئے کسٹمز ایکٹ 1969 میں فنانس ایکٹ 2018 کے ذریعے شق 212 اے کا اضافہ کیا گیا۔ ایف بی آر نے 28 اگست کو جاری ہونے والے ایس آر او 798 (I)/2020 کے زریعے آتھو رائزڈ اکنامک آپریٹر پروگرام قوانین بھی مرتب کر لئے ہیں۔ترجمان نے کہاکہ ‘آتھو رائزڈ اکنامک آپریٹر پروگرام اپروول کمیٹی'{ بھی تشکیل دے دی گئی ہے جو درخواست گزاروں کی درخواستوں کو حتمی شکل دے رہی ہے۔ اے ای او پروگرام کے لئے وی بوک اور بزنس پراسیس کے لئے سافٹ وئیر تیار کر لیا گیا ہے۔ترجمان کے مطابق ایف بی آر نے پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر ماڈل کسٹمز کولیکٹوریٹ پورٹ قاسم کراچی میں برآمدات کے لئے اے ای او پروگرام اکتوبر 2020 میں شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جو کہ بعد ازاں درآمدات کے لئے بھی شروع ہو جائے گا۔ ورلڈ کسٹمز آرگنائزیشن کا آتھو رائزڈ اکنامک آپریٹر پروگرام تجارت میں سہولت اور سیکورٹی کو یقینی بنانے میں ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ پروگرام تجارتی شراکت داری ، شفاف اور معاشی ترقی کا ضامن تصور کیا جاتا ہے۔ آتھو رائزڈ اکنامک آپریٹرز کئی تجارتی سہولیات و فوائد جیسے کہ تیز تر شپمنٹ پراسیسنگ ، کسٹمز اداروں کے درمیان باہمی ہم آہنگی، مالی گارنٹی کی چھوٹ وغیرہ حاصل کر سکتے ہیں۔ آتھو رائزڈ اکنامک آپریٹر ز میں مینو فیکچررز، درآمدکنندگان، برآمدکنندگان، پورٹس، ائیر پورٹس ، ٹرمینل آپریٹرز، ڈسٹری بیوٹرز وغیرہ شامل ہیں۔ حکومت پاکستان اس وقت اکنامک آپریٹر ز کو درآمدات، برآمدات اور ٹرانزٹ کی اضافی تجارتی سہولیات دینے کے حوالہ سے کیٹیگری سی میں شامل ہے جس کی وجہ سے پاکستان 190 ممالک میں 108 نمبر پر ہے اور سرمایہ کاری کے لئے کم پرکشش ہے۔