آرگینک زراعت کے فروغ کو حکومتی ترجیحات میں شامل کرنا خوش آئند ہے، نجم مزاری
آرگینک زراعت کے فروغ کو حکومتی ترجیحات میں شامل کرنا خوش آئند ہے، نجم مزاری

مزید خبریں
اسلام آباد۔30اگست (اے پی پی):آرگینک زراعت اور مصنوعات پر تحقیق کرنے والے نجی ادارہ کے سربراہ نجم مزاری نے وفاقی حکومت کی جانب سے ایگریکلچر انوویشن اینڈ گروتھ پلان27-2026 کے تحت ترجیحی اقدامات پر پیشرفت ،نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر اور پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل کو مزید فعال بنا کر بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے احکامات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیہی آمدن میں اضافے کے لیے آرگینک زراعت کے فروغ کو حکومتی ترجیحات میں شامل کرنا انتہائی خوش آئند ہے۔
اتوار کو جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کے لیے چھوٹے اور درمیانے درجہ کے کسانوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کا اعلان قابل ستائش ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سرٹیفائیڈ کمپنیوں کے ذریعے کسانوں کو معیاری بیج کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں ۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ ان کمپنیوں کو آرگینک بیجوں کی تیاری کی جانب بھی راغب کیا جائے۔نجم مزاری نے کہا کہ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان سمیت ملک کے چاروں صوبوں کی زمین اور آب و ہوا آرگینک زراعت کے لیے انتہائی موزوں ہے، بلوچستان میں کپاس اور کھجور سمیت منتخب زرعی کلسٹرز کو آرگینک پیداوار کے پائلٹ علاقوں کے طور پر ترقی دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی آرگینک پالیسی اور معیارات وضع کرنے، گروپ سرٹیفکیشن متعارف کرانے اور ڈیجیٹل ٹریس ایبلٹی نظام قائم کرنے کیلئے عملی پیشرفت کی جائے، اس کے ساتھ مقامی زرعی اجناس کی ویلیو چین، برآمدی استعداد اور کسانوں کی آمدن بڑھانے کے لیے تحقیق، سرٹیفکیشن، سٹوریج، پراسیسنگ اور عالمی منڈیوں تک رسائی کو مربوط بنانے کے اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔
انہوں نے نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اسے سات اضلاع میں تقسیم کرنے کے فیصلے کا بھی خیر مقدم کیا اور کہا کہ پانچ سینٹرز آف ایکسیلینس، ریفرنس لیبارٹریز ، بائیو ریپازیٹری، نئے تحقیقی مراکز، نجی شعبے کے لیے تحقیقی پارک، بین الاقوامی تعاون کا مرکز، لیونگ لیبارٹری اور پبلک ڈسکوری پارک جیسی سہولیات ملک میں زرعی تحقیق اور جدت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔








