ایمیلیانو مارٹینیز کی 75 لاکھ پاؤنڈ میں چیلسی منتقلی، دونوں کلبوں کے درمیان 4 سال میں 8واں معاہدہ
ایمیلیانو مارٹینیز کی 75 لاکھ پاؤنڈ میں چیلسی منتقلی، دونوں کلبوں کے درمیان 4 سال میں 8واں معاہدہ

مزید خبریں
لندن۔30اگست (اے پی پی):ارجنٹائن کے عالمی کپ فاتح گول کیپر ایمیلیانو مارٹینیز 75 لاکھ پاؤنڈ کے عوض آسٹن ولا سے چیلسی منتقل ہوگئے۔ بی بی سی کے مطابق 33 سالہ گول کیپر ایمیلیانو مارٹینیز نے سٹیمفورڈ برج کلب کے ساتھ 3 سالہ معاہدہ کرلیا ہے۔ایمیلیانو مارٹینیز نے 2020 میں آرسنل سے آسٹن ولا میں شمولیت اختیار کی تھی اور کلب کی جانب سے 256 میچز کھیلے۔
گزشتہ سیزن میں انہوں نے آسٹن ولا کو یوروپا لیگ جیتنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔چیلسی سے معاہدے پر ایمیلیانو مارٹینیز نے کہا کہ وہ کلب میں شمولیت پر انتہائی خوش ہیں اور یہاں کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق چیلسی ایک ایسا کلب ہے جو ٹائٹل جیتنے کے لیے جانا جاتا ہے اور وہ بھی ہر مقابلے میں کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
ایمیلیانو مارٹینیز کی چیلسی منتقلی گزشتہ ہفتے نکولس جیکسن کے چیلسی سے آسٹن ولا جانے کے بعد ہوئی ہے۔ گزشتہ 4 سال کے دوران پریمیئر لیگ کے کسی بھی 2 کلبوں کے درمیان مستقل یا قرض پر کھلاڑیوں کے تبادلے کے لحاظ سے چیلسی اور آسٹن ولا کے درمیان سب سے زیادہ کاروباری معاملات ہوئے ہیں۔دونوں کلبوں کے درمیان یہ سلسلہ 2022 میں شروع ہوا، جب چیلسی کے مالکان بلیو کو نے آسٹن ولا کا انتظام سنبھالنے کے بعد کارنی چکوویمیکا کو 20 لاکھ پاؤنڈ میں چیلسی منتقل کیا۔ اس کے بعد ایان ماتسن 37.5 ملین پاؤنڈ میں آسٹن ولا، عماری کیلی مین 19 ملین پاؤنڈ میں چیلسی اور ایکسل ڈساسی 5 ملین پاؤنڈ کی قرض کی فیس پر آسٹن ولا منتقل ہوئے۔رواں موسم گرما میں دونوں کلبوں کے درمیان 4 مزید معاہدے ہوئے۔
مورگن راجرز 117 ملین پاؤنڈ میں چیلسی منتقل ہوئے، جبکہ الیخاندرو گارناچو تقریباً 43 ملین پاؤنڈ مالیت کے مشروط معاہدے کے تحت قرض پر آسٹن ولا کا حصہ بنے۔ اس کے بعد نکولس جیکسن 65 ملین پاؤنڈ میں آسٹن ولا منتقل ہوئے اور اب ایمیلیانو مارٹینیز نے چیلسی کا رخ کرلیا ہے۔2022 سے اب تک چیلسی نے آسٹن ولا سے کھلاڑیوں کی خریداری پر 163.5 ملین پاؤنڈ خرچ کیے ہیں، جبکہ آسٹن ولا نے چیلسی کے کھلاڑیوں پر 102.5 ملین پاؤنڈ خرچ کیے ہیں۔
گارناچو کے معاہدے کو مستقل بنانے کی شرائط پوری ہونے کی صورت میں یہ رقم 150.5 ملین پاؤنڈ تک پہنچ سکتی ہے۔دونوں کلبوں کے درمیان کھلاڑیوں کی لین دین کا سلسلہ اس سے پہلے بھی موجود رہا ہے، تاہم حالیہ 4 سال میں کاروباری معاملات کی غیر معمولی تعداد نے پریمیئر لیگ کے دیگر کلبوں کی توجہ بھی حاصل کی ہے۔ بعض کلب حکام نے دونوں ٹیموں کے درمیان معاملات کی تکرار پر سوالات اٹھائے ہیں، تاہم دونوں کلبوں کی جانب سے کسی بھی ضابطے کی خلاف ورزی کا کوئی ثبوت یا الزام سامنے نہیں آیا۔







