نیپال میں مزید سیلاب کا الرٹ جاری، اموات 750 ہو گئیں
نیپال میں مزید سیلاب کا الرٹ جاری، اموات 750 ہو گئیں

مزید خبریں
کھٹمنڈو۔30اگست (اے پی پی):نیپال میں حکام نے اتوار کو مزید سیلاب آنے کے خدشے کے پیش نظر شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے رہائشیوں کو انتہائی چوکس رہنے کی ہدایت کی ہے جبکہ حالیہ سیلاب میں اموات بڑھ کر 750 ہو گئی ہیں اور 3 ہزار 44 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ اردو نیوز کے مطابق یہ وارننگ نیپال اور تبت کی سرحد پر واقع دریا بھوٹے کوشی دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے کے بعد جاری کی گئی ہے۔اتوار کی صبح لوگوں کے موبائل فونز پر سیلاب سے متعلق انتباہی پیغامات بھیجے گئے، جبکہ امدادی ٹیمیں کھٹمنڈو کو بدترین متاثرہ علاقوں میں سے ایک سے ملانے والی اہم شاہراہ سے ملبہ ہٹانے میں مصروف رہیں۔ دریا کے کنارے کئی مکانات، گاڑیاں اور ٹریکٹر کیچڑ میں دبے ہوئے اب بھی دکھائی دیتے ہیں جس نے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں کے پورے دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
دریا کے کنارے موجود چاول کے کھیت بھی لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آئے، جس کے باعث کھیتوں کے کچھ حصے دریا میں بہہ گئے ہیں۔تازہ ترین اطلاعات کے بعد نیپال اور تبت میں مجموعی طور پر اموات کی تعداد 750 ہو گئی ہے جبکہ تین ہزار 44 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔نیپال کی ’نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی‘ کے مطابق ملک میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 734 ہوگئی ہے جبکہ دو ہزار 498 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔چینی حکام کے مطابق تبت میں 16 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ پانچ سو 46 افراد لاپتہ ہیں، جن میں سو کا تعلق نیپال سے ہے جبکہ بقایا لاپتہ افراد کا تعلق دیگر ایک درجن سے زائد ممالک سے ہے۔
نیپال میں نئی سیلابی وارننگ چینی حکام کی جانب سے نیپالی حکام کو بالائی علاقوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے سے آگاہ کیے جانے کے بعد جاری کی گئی ہے۔نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو دھرم راج اپریتی نے بتایا کہ چینی حکام نے دریا کے بالائی حصے میں پانی کے بہاؤ میں اضافے سے متعلق نیپالی حکام کو آگاہ کیا تھا۔تاہم سیلاب سے متاثرہ دیہات کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ابتدائی سیلاب کے بعد سے مسلسل موصول ہونے والے خطرے کے پیغامات نے انہیں شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
مقامی رہائشی گووند شریشٹھا نے بتایا کہ کبھی کہا جاتا ہے کہ سیلاب آنے والا ہے، پھر ہمیں دوبارہ بلند مقام کی طرف بھاگنا پڑتا ہے خاص طور سے رات کے وقت اور بارش میں یہ اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرے لیے یہ واقعی بہت مشکل ہے۔ میرے والد 72 سال کے اور والدہ 70 سال کی ہیں۔ مجھے انہیں اٹھا کر لے جانا پڑتا ہے اور میں تھک چکا ہوں۔ جو لوگ زندہ بچے ہیں، ان کے لیے یہ سلسلہ اسی طرح جاری ہے۔
سیلاب کے باعث بڑے کنکریٹ پلوں اور چھوٹے رابطہ پلوں کو بھی نقصان پہنچا یا وہ مکمل طور پر تباہ ہوگئے، جس کے نتیجے میں دریا کے دوسری جانب رہنے والی آبادیوں تک رسائی مزید مشکل ہوگئی ہے۔47 سالہ ستن سنگھ تمانگ بدھ کو سیلاب آنے کے وقت ایک پل کے قریب کام کر رہے تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ جو لوگ وہاں ہیں، وہ اب وہیں پھنسے ہوئے ہیں۔ جو یہاں ہیں، وہ یہاں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ بہت مشکل صورتحال ہے۔
سیلاب سے محفوظ رہ جانے والے گھروں اور کاروباری مراکز میں بھی اتوار کو بجلی بحال نہیں ہوسکی۔ بجلی کے مڑے ہوئے کھمبے اور تاریں کیچڑ میں الجھی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔پرتھوی ہائی وے ملک کے مختلف حصوں سے کھانے پینے کی اشیاء، ایندھن اور دیگر سامان کھٹمنڈو پہنچانے کے لیے انتہائی اہم سپلائی روٹ ہے۔ شاہراہ کا بیشتر حصہ آمدورفت کے لیے کھلا ہے، تاہم بعض مقامات پر اب بھی مرمت اور بحالی کا کام درکار ہے۔








