دبئی۔5دسمبر (اے پی پی):پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لئے ورچوئل ایسٹس کی جامع اور جدید ریگولیشن معاشی ترقی کا بنیادی ستون ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بائنانس بلاک چین ویک دبئی میں شرکت کرتے ہوئے عالمی ماہرین اور ریگولیٹرز کے سامنے پاکستان کا مؤقف اور وژن پیش کیا۔ تقریب میں بائنانس کے بانی چانگ پنگ …
ابھرتی ہوئی معیشتوں کےلئے ورچوئل ایسٹس کی جامع اور جدید ریگولیشن معاشی ترقی کا بنیادی ستون ثابت ہو سکتی ہے، بلال بن ثاقب

مزید خبریں
دبئی۔5دسمبر (اے پی پی):پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لئے ورچوئل ایسٹس کی جامع اور جدید ریگولیشن معاشی ترقی کا بنیادی ستون ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بائنانس بلاک چین ویک دبئی میں شرکت کرتے ہوئے عالمی ماہرین اور ریگولیٹرز کے سامنے پاکستان کا مؤقف اور وژن پیش کیا۔
تقریب میں بائنانس کے بانی چانگ پنگ ژاؤ (CZ)، مائیکرو سٹریٹجی کے چیئرمین مائیکل سیلر اور متحدہ عرب امارات کے وزیر برائے مصنوعی ذہانت عمر سلطان العلمہ سمیت دنیا بھر سے شخصیات نے شرکت کی۔اپنے خطاب میں پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لئے ورچوئل ایسٹس کی جامع اور جدید ریگولیشن معاشی ترقی کا بنیادی ستون ثابت ہو سکتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان تیزی سے ایسے معاشی مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں ڈیجیٹل فنانس اور بلاک چین ٹیکنالوجی ترقی کے نئے دروازے کھول سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کے لئے کرپٹو اور ورچوئل ایسٹس ریگولیشن کا ایک مؤثر اور قابلِ عمل ماڈل بن سکتا ہے۔ ہماری پالیسیوں کا مقصد جدت، سرمایہ کاری اور صارفین کے تحفظ کے درمیان ایک متوازن فریم ورک تشکیل دینا ہے۔ بلال بن ثاقب نے مزید کہا کہ پاکستان کے تیار کردہ سٹیبل کوائن فریم ورک اور ڈیٹا پوائنٹس ماڈلز عالمی سطح پر بہترین کیس سٹڈیز بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور دیگر ترقی پذیر ممالک ان سے رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔ا
نہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ پاکستان کو دبئی اور ابوظہبی جیسے اہم عالمی فورمز پر مؤثر نمائندگی کا موقع ملا ہے جو ورچوئل ایسٹس کے مستقبل میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کا واضح ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فعال شرکت سے ورچوئل ایسٹس کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجیکل شراکت داری کے نئے امکانات روشن ہوئے ہیں۔تقریب میں عالمی ماہرین نے پاکستان کے ریگولیٹری اقدامات میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خطے میں ایک مثبت پیشرفت قرار دیا۔








