احرام کے بغیر عرفات میں ایک پاکستانی ڈاکٹر جو دوسروں کے حج کے لیے اپنی عبادت قربان کرتا ہے

احرام کے بغیر عرفات میں ایک پاکستانی ڈاکٹر جو دوسروں کے حج کے لیے اپنی عبادت قربان کرتا ہے

خرم شہزاد

میدان عرفات، مکہ مکرمہ۔26مئی (اے پی پی):9ذوالحجہ کو جب مکہ مکرمہ کی تپتی دھوپ میں لاکھوں عازمینِ حج سفید احرام باندھے، آنکھوں میں آنسو لیے میدانِ عرفات کی طرف بڑھ رہے ہوتے ہیں، تو پاکستان حج مشن کے میڈیکل آفیسر ڈاکٹر عطاء الرحمان عام حجاج کی صفوں میں نظر نہیں آتے۔ وہ اس دن احرام نہیں پہنتے، نہ ہی اپنے لیے مناسکِ حج ادا کر رہے ہوتے ہیں۔اس کے باوجود، وہ میدانِ عرفات ہی میں ہوتے ہیں، مگر لبیک کی صداؤں کے بیچ، ان کا رخ آسمان کی طرف ہونے کے بجائے ان اسٹریچرز اور وہیل چیئرز کی طرف ہوتا ہے جن پر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا زائرین لیٹے ہوتے ہیں۔یہ کہانی ایک ایسے ڈاکٹر کی ہے جو مکہ کے ہسپتالوں کے آئی سی یو (آئی سی یو) اور وارڈز کو عارضی طور پر ایمبولینسوں میں منتقل کر کے، ان 100 سے زائد پاکستانیوں کا حج ممکن بناتا ہے جنہیں ڈاکٹرز بستر سے ہلنے کی اجازت بھی نہیں دیتے۔

رواں سال بھی منظر مختلف نہیں تھا۔ شدید علالت، فالج یا معذوری کے باعث چلنے پھرنے سے لاچار 100 سے زائد پاکستانی عازمین کے لیے حج کا خواب دم توڑ رہا تھا، لیکن ڈاکٹر عطاء الرحمان نے اپنی برسوں پرانی روایت کو ٹوٹنے نہیں دیا۔انہوں نے ہسپتال کی انتظامیہ، خصوصی بسوں اور ایمبولینسوں کے ایک پورے نیٹ ورک کو متحرک کیا۔ شدید بیمار مریضوں کو مشینوں سمیت گاڑیوں میں منتقل کیا، خود ان کے ساتھ عرفات پہنچے، خطبہِ حج کے دوران ایک ایک مریض کی نبض اور آکسیجن چیک کرتے رہے، قیام مکمل کرایا اور پھر اسی حفاظت کے ساتھ انہیں واپس ہسپتالوں اور اقامت گاہوں تک پہنچایا۔

یہ ایک پیچیدہ میڈیکل آپریشن تھا، جس کی نگرانی وہ بغیر احرام کے، ایک عام سرکاری وردی میں کر رہے تھے۔جب میدان عرفات میں موجود اے پی پی نمائندے خرم شہزاد نے ان سے پوچھا گیا کہ وہ ہر سال مکہ میں ہونے کے باوجود اپنے حج کی قربانی کیوں دے دیتے ہیں، تو ڈاکٹر عطاء الرحمان کے چہرے پر ایک سنجیدہ مسکراہٹ ابھر آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر میں بھی احرام پہن کر اپنے مناسکِ حج میں مصروف ہو جاؤں، تو ان 100سے زائد بے بس لوگوں کا حج کبھی مکمل نہ ہو پاتا۔ کوئی تو ہو جو اس وقت ان کی آکسیجن ٹیوب سنبھالے. انکا یہ بھی کہنا تھا کہ حج کے بعد اکثر لوگ لوگ کہتے ہیں آپ کا حج رہ گیا۔

میں کہتا ہوں کہ اگر ڈیوٹی کو نیت کے خلوص، لگن اور دل سے کیا جائے، تو وہی فرض انسان کے لیے سب سے بڑی خدمت اور افضل ترین عبادت بن جاتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ میرا یہی عمل میرا حج ہے۔ عالمی سطح پر جہاں حج کو دنیا کے سب سے بڑے مذہبی اجتماع اور انفرادی عبادات کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، وہاں ڈاکٹر عطاء الرحمان جیسے کردار اس عظیم اجتماع کو ‘انسانی ہمدردی اور مروت’ کا ایک نیا رخ دیتے ہیں۔ جہاں ہر شخص اپنی مغفرت کی دعا میں مگن ہوتا ہے، وہاں مکہ کے صحرا میں یہ پاکستانی مسیحا دوسروں کے خوابوں کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے ڈھال بن کر کھڑا رہتا ہے۔ وہ خود حاجی نہیں بنتے، لیکن ہر سال سو سے زائد لاچار انسانوں کے حج کا سب سے معتبر وسیلہ ضرور بن جاتے ہیں۔

مزید خبریں