"سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے بحری سلامتی کے فروغ، بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کے تحفظ اور عالمی تجارت کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے کثیرالملکی بحری دفاعی اتحاد کے قیام پر پیش رفت کرتے ہوئے 43 ممالک کے چیف آف سٹاف اور نمائندوں کے اجلاس کی میزبانی کی۔”
سعودی وزارتِ دفاع کے زیراہتمام 43 ممالک کے چیف آف سٹاف اور ان کے نمائندوں کا اجلاس ،پاکستان سمیت 14ممالک کا کثیرالملکی بحری دفاعی اتحاد کے قیام کی حمایت اور اس سے متعلق طے پانے والے اتفاقِ رائے کا خیرمقدم

مزید خبریں
اسلام آباد/جدہ۔30جولائی (اے پی پی):سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے بحری سلامتی کے فروغ، بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کے تحفظ اور عالمی تجارت کو درپیش خطرات سے نمٹنے کیلئے کثیرالملکی بحری دفاعی اتحادکے قیام کے اقدام پر پیش رفت کرتے ہوئے 43 ممالک کے چیف آف سٹاف اور ان کے نمائندوں کے اجلاس کی میزبانی کی۔
14 ممالک نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کثیرالملکی بحری دفاعی اتحاد کے قیام کی حمایت اور اس سے متعلق طے پانے والے اتفاقِ رائے کا خیرمقدم کیا۔ ان ممالک میں سعودی عرب، کویت، بحرین، قطر، پاکستان، ترکیہ، مصر، اردن، یمن، بنگلہ دیش، نائجیریا، سوڈان، جبوتی اور صومالیہ شامل ہیں۔جمعرات کوسعودی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق یہ اجلاس جمعرات کو منعقد ہوا جس میں برادر اور دوست ممالک کے فوجی نمائندوں کے علاوہ مملکت میں تعینات یورپی یونین کے وفد نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں 51 مدعو ممالک اور تنظیموں میں سے 43 ممالک کی بالمشافہ اور ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کو بحری دفاعی تعاون کے حوالے سے بڑھتی ہوئی بین الاقوامی دلچسپی کا مظہر قرار دیا گیا۔اجلاس میں تجارتی جہازوں، توانائی بردار ٹینکروں اور بحری بنیادی ڈھانچے کو لاحق بڑھتے ہوئے خطرات کا جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ بحری جہاز رانی کی سلامتی، عالمی سپلائی چین کے استحکام اور بین الاقوامی معیشت کے تحفظ کے لیے کثیرالجہتی دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔شرکاء نے مجوزہ کثیرالملکی بحری دفاعی اتحادکے چارٹر، بنیادی دستاویزات، تنظیمی ڈھانچے، کمانڈ اینڈ کنٹرول کے نظام، آپریشنل طریقہ کار اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی تفصیلی غور کیا۔ اجلاس میں باب المندب، بحیرۂ احمر اور خلیجِ عدن میں مشترکہ بحری خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک مؤثر ادارہ جاتی فریم ورک تشکیل دینے کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں اتحاد کے بنیادی انتظامات پر بھی اتفاق کیا گیا، جس کے تحت سعودی عرب کو اتحاد کا بانی اور قائد ملک مقرر کرنے کے ساتھ اس کے مستقل ہیڈکوارٹر کی میزبانی بھی سونپی جائے گی۔ اس فیصلے کو اجتماعی بحری سلامتی کے فروغ میں سعودی عرب کے قائدانہ کردار پر عالمی اعتماد کا اظہار قرار دیا گیا۔اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اتحاد میں شمولیت کے خواہش مند ممالک کے فوجی منصوبہ ساز آئندہ مرحلے میں چارٹر کو حتمی شکل دینے، تنظیمی ڈھانچے، کمانڈ اینڈ کنٹرول کے نظام، آپریشنل طریقہ کار اور تکنیکی فریم ورک کی تکمیل کے لیے اپنی مشاورت جاری رکھیں گے۔ یہ اقدامات شریک ممالک کی قومی منظوریوں کے ساتھ مکمل کیے جائیں گے تاکہ اتحاد کے چارٹر پر دستخط، اس کے باضابطہ قیام اور عملی کارروائیوں کا آغاز ممکن بنایا جا سکے۔سعودی وزارتِ دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ کثیرالملکی بحری دفاعی اتحاد ایک کھلا بین الاقوامی دفاعی اقدام ہے، جس میں ان تمام ممالک کی شمولیت کا خیرمقدم کیا جائے گا جو اس کے مقاصد اور اصولوں سے اتفاق رکھتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ بین الاقوامی بحری راستوں کا تحفظ ایک مشترکہ عالمی ذمہ داری ہے، جس کے لیے مؤثر اور پائیدار بین الاقوامی شراکت داری ناگزیر ہے۔اجلاس کے اختتام پر 14 ممالک نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کثیرالملکی بحری دفاعی اتحاد کے قیام کی حمایت اور اس سے متعلق طے پانے والے اتفاقِ رائے کا خیرمقدم کیا۔ ان ممالک میں سعودی عرب، کویت، بحرین، قطر، پاکستان، ترکیہ، مصر، اردن، یمن، بنگلہ دیش، نائجیریا، سوڈان، جبوتی اور صومالیہ شامل ہیں۔بیان کے مطابق دیگر شریک ممالک نے بھی اس اقدام کی حمایت کا اظہار کیا ہے اور وہ اپنی قومی سطح کی ضروری منظوریوں کی تکمیل کے بعد مشترکہ اعلامیے میں شامل ہوں گے۔ اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اتحاد کے قیام کے تمام مراحل جلد مکمل کیے جائیں گے تاکہ بحری سلامتی، بین الاقوامی آبی گزرگاہوں، جہاز رانی کی آزادی اور عالمی تجارت کے تحفظ کے ساتھ علاقائی اور عالمی امن و استحکام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔







