احسن اقبال کی زیر صدارت سول سروس اصلاحات پر کثیر الجماعتی مشاورتی اجلاس،سول سروس کے قیام کیلئے وسیع تر سیاسی و ادارہ جاتی اتفاق رائے پیدا کرنے پر غور

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیرصدارت سول سروس اصلاحات کے حوالے سے کثیر الجماعتی مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں سیاسی رہنماؤں، پالیسی ماہرین اور مختلف شعبوں سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی اور پاکستان میں خصوصی مہارت، میرٹ اور احتساب پر مبنی سول سروس کے قیام کے لیے وسیع تر سیاسی و ادارہ جاتی اتفاق رائے پیدا کرنے پر غور …

اسلام آباد۔19ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیرصدارت سول سروس اصلاحات کے حوالے سے کثیر الجماعتی مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں سیاسی رہنماؤں، پالیسی ماہرین اور مختلف شعبوں سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی اور پاکستان میں خصوصی مہارت، میرٹ اور احتساب پر مبنی سول سروس کے قیام کے لیے وسیع تر سیاسی و ادارہ جاتی اتفاق رائے پیدا کرنے پر غور کیا۔

وفاقی وزیر نے سول سروس اصلاحات کے مجوزہ فریم ورک کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ایسی خصوصی مہارت کی حامل،میرٹ پر مبنی، جوابدہ اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ عوامی انتظامیہ تشکیل دینا ہے جو پاکستان کودرپیش عصر حاضر کے ترقیاتی چیلنجز کا مؤثر انداز میں سامنا کر سکے۔انہوں نے بتایا کہ سول سروس اصلاحات کے لیے وزیراعظم کی کمیٹی کے تقریباً 15 اجلاس منعقد ہوئے جن میں 46 سفارشات مرتب کی گئیں جن میں سے 43 پر وسیع اتفاق رائے حاصل ہو چکا ہے جبکہ چند باقی امور کو سیاسی قیادت اوراسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے مزید بہتر بنایا جائے گا۔اجلاس میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا، وفاقی وزیر عبدالعلیم خان، سابق وفاقی وزیر اسد عمر، سینئر پالیسی سازوں، شعبہ جاتی ماہرین اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔

مشاورتی اجلاس کا مقصد ایسی اصلاحات کے لیے وسیع تر سیاسی و ادارہ جاتی ملکیت پیدا کرنا تھا جن کے ریاستی ڈھانچے اورکارکردگی پر طویل المدتی اثرات مرتب ہوں گے۔پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ جدید ریاست کی بڑھتی ہوئی معاشی، سماجی، تکنیکی اور ترقیاتی ضروریات کے مطابق یہ نظام مطلوبہ حد تک ارتقا پذیر نہیں ہو سکا، صرف انتظامی نگرانی اور محصولات کے حصول پرمرکوز نظام پائیدار قومی ترقی کے لیے درکار خصوصی علم، ادارہ جاتی استعداد اور مؤثر عملدرآمد کی صلاحیت فراہم نہیں کر سکتا۔وفاقی وزیر نے جدید سول سروس کے لیے پانچ بنیادی خصوصیات کی نشاندہی کی اورکہا کہ ملک کو زیادہ پیشہ ورانہ اور شعبہ جاتی بنیادوں پر بھرتی کے نظام کی طرف بڑھنا ہوگا، موجودہ نظام میں کسی افسر کو پیشہ ورانہ گروپ کی تخصیص اکثر امتحانی نمبروں کی بنیاد پر ہوتی ہے جبکہ اس میں امیدوار کے تعلیمی پس منظر، پیشہ ورانہ مہارت اور تفویض کردہ ذمہ داریوں کو مطلوبہ اہمیت نہیں دی جاتی۔

انہوں نے کہا کہ اس عدم مطابقت کے باعث وزارتیں مؤثر پالیسی سازی اور عملدرآمد کے لیے درکار خصوصی مہارت سے محروم رہتی ہیں، اس لیے مجوزہ فریم ورک کے تحت اہم شعبوں میں پیشہ ورانہ کیڈر تشکیل دیےجائیں گے تاکہ افسران اپنے متعلقہ شعبوں میں مہارت حاصل کرتے ہوئے طویل المدتی پیشہ ورانہ کیریئر اختیار کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ تعلیم، صحت،خزانہ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، انجینئرنگ اور تجارت جیسے خصوصی شعبوں کے لیے متعلقہ قابلیت، تجربے اور مسلسل شعبہ جاتی تجربے کے حامل افسران درکار ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ سول سروس میں میرٹ پر مبنی قیادت کو فروغ دیا جائے اور تقرریوں و ترقیوں کو اہلیت اور ثابت شدہ کارکردگی سے زیادہ مربوط کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کا عمل صرف مدت ملازمت کی بنیاد پراستحقاق کے بجائے افسر کی خدمات اور نتائج دینے کی صلاحیت سے منسلک ہونا چاہیے۔

تیسری خصوصیت کے طور پر انہوں نے نتائج کے حوالے سے زیادہ مضبوط احتساب پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کیریئر مینجمنٹ میں قابل پیمائش کلیدی کارکردگی اشاریوں اور نتائج پر مبنی جائزوں کو شامل کیا جائے تاکہ انفرادی کارکردگی کو واضح ادارہ جاتی اہداف کے مقابل جانچا جا سکے۔چوتھی خصوصیت کے حوالے سے انہوں نے سول سروس میں بھرتی کو مزید جامع بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ انگریزی زبان میں اعلیٰ سطح کی مہارت پر غیر متناسب زور بعض اوقات باصلاحیت امیدواروں،بالخصوص اشرافیہ کے اداروں سے باہر تعلیم حاصل کرنے والے افراد کے لیے رکاوٹ بن سکتا ہے۔پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ سرکاری ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے انگریزی میں عملی مہارت ضروری ہے تاہم شیکسپیئر کے درجے کی زبان دانی کو قابل امیدواروں کے سرکاری ملازمت میں داخلے کی مصنوعی رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔

پانچویں خصوصیت کے طور پر وفاقی وزیر نے ٹیکنالوجی سے ہم آہنگی کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل خواندگی جدید عوامی انتظامیہ کے لیے ناگزیر ہو چکی ہے۔ سول سرونٹس کو مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سسٹمز اور ڈیجیٹل ایپلی کیشنز کے استعمال کے لیے تیار کیا جانا چاہیے تاکہ فیصلہ سازی، پیداواری صلاحیت اور عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنایا جا سکے۔پروفیسر احسن اقبال نے بتایا کہ کمیٹی نےآسٹریلیا، نیوزی لینڈ، ملائیشیا اور برطانیہ کے سول سروس نظاموں کا مطالعہ کیاخصوصاً ان ممالک کا جو دولت مشترکہ کی روایات اور پارلیمانی نظام رکھتے ہیں۔پلاننگ کمیشن کے ممبر گورننس ڈاکٹر عدنان رفیق نے شرکاء کو مجوزہ اصلاحاتی فریم ورک کی نمایاں خصوصیات پر بریفنگ دی۔سینیٹر سلیم مانڈوی والا، وفاقی وزیر عبدالعلیم خان اور سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے مشاورتی اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے سول سروس میں ساختی اصلاحات، پیشہ ورانہ تخصص اوراصلاحاتی عمل کے لیے مضبوط سیاسی ملکیت کی ضرورت کی حمایت کی۔ انہوں نے بار بار تیار ہونے والی اصلاحاتی رپورٹس سے آگے بڑھ کر عملی اور پائیدار عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔

شرکاء نے اس امر پر وسیع اتفاق کیا کہ سول سروس اصلاحات کو کسی ایک حکومت یا سیاسی جماعت کا ایجنڈا نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ پائیدار ادارہ جاتی تبدیلی کے لیے تسلسل، مؤثر عملدرآمد اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع تر ملکیت ضروری ہے۔پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ مختلف حکومتوں اور شعبوں میں تجربہ رکھنے والی قیادت کی شرکت کا مقصد اصلاحاتی عمل کے لیے دیرپا سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے شرکاء سے کہا کہ وہ حکومت میں اپنےتجربات کی روشنی میں سفارشات کا جائزہ لیتے ہوئے سول سروس کی استعداد اور مؤثریت بڑھانے کے لیے تجاویز پیش کریں۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سول سروس اصلاحات کو کسی ایک حکومت کا محدود مدت کا منصوبہ بنانے کے بجائے ریاست میں مسلسل اصلاحات کے طور پر آگے بڑھایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جدید،پیشہ ورانہ اور شہریوں پر مرکوز سول سروس عوامی پالیسی کو قابل پیمائش ترقیاتی نتائج میں تبدیل کرنے اورڈیجیٹل دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ اداروں کی تشکیل کے لیے ضروری ہے۔سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے سول سروس اصلاحات پر بریفنگ کے بعد کہا کہ اگر وفاقی وزیر احسن اقبال ان اصلاحات کو نافذ کرانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ ان کا سب سے بڑا ورثہ اورپاکستان کے لیے خدمت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اسے ’’احسن اقبال کمیٹی/رپورٹ‘‘ کے نام سے یاد کیا جانا چاہیے۔

 

مزید خبریں