کراچی۔ 19 ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری و چیئرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر معاشی ترقی کے ایجنڈے پر توجہ دینا ہوگی۔ ہفتہ کوان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی پریس کلب کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کا معاشی حب ہے،کراچی کے مسائل سے بخوبی آگاہ …
سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر معاشی ترقی کے ایجنڈے پر توجہ دینا ہوگی،وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ

مزید خبریں
کراچی۔ 19 ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری و چیئرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر معاشی ترقی کے ایجنڈے پر توجہ دینا ہوگی۔ ہفتہ کوان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی پریس کلب کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کا معاشی حب ہے،کراچی کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں کیونکہ وہ 1987 میں کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر رہ چکے ہیں۔
اس موقع پر کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، سیکرٹری اسلم خان اور دیگر عہدیداران نے بھی موجود تھے ۔قیصر احمد شیخ نے کہا کہ دنیا میں جن ممالک نے تیز رفتار معاشی ترقی کی، ان کی ترقی میں برآمدی شعبے کا بنیادی کردار رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی برآمدات میں مطلوبہ اضافہ نہیں ہوسکا، تاہم ان کی توقع ہے کہ آئندہ ایک سے دو سال کے دوران ملکی برآمدات میں بہتری آئے گی، معاشی ترقی کے لیے مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے ملک کے دفاع کے حوالے سے بہت کام کیا ہے، اب کاروباری برادری اور معاشی شعبے کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ سفارتی سطح پر پاکستان کی آواز دنیا تک پہنچ رہی ہے اور حکومت کی سفارتی کوششوں کا چرچا بھی ہورہا ہے، تاہم معاشی سطح پر ابھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔وفاقی وزیر نے بھارت کے دفاعی بجٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کا دفاعی بجٹ پاکستان کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے، اس کے باوجود پاکستان نے دفاعی محاذ پر اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اب توجہ معیشت، سرمایہ کاری، تجارت اور برآمدات کے فروغ پر مرکوز کرنا ہوگی۔قیصر احمد شیخ نے کہا کہ انہیں ورلڈ اکنامک فورم کی سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ امپیکٹ میٹنگز 2026 میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے اور وہ آئندہ ہفتے نیویارک جائیں گے۔
سرکاری طور پر یہ اجلاس 21سے 24 ستمبر 2026تک منعقد ہورہا ہے، جہاں عالمی کاروباری رہنمائوں کے ساتھ پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع اور اقتصادی تعائون پر بات چیت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ 23ستمبر کو ورلڈ اکنامک فورم کے ساتھ اہم اجلاس ہوگا، جس میں پاکستان کی معاشی ترقی، سرمایہ کاری کے امکانات اور عالمی سرمایہ کاروں کو پاکستان کی طرف راغب کرنے کے حوالے سے بات چیت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر سے سرمایہ کار اس فورم میں شریک ہوں گے اور پاکستان کو اپنی سرمایہ کاری کی صلاحیت اجاگر کرنے کا موقع ملے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ میں متعلقہ اداروں کی مشاورت سے ریگولیشنز کم کرنے اور کاروباری سرگرمیوں میں آسانی پیدا کرنے پر کام جاری ہے، سرکاری معلومات کے مطابق بورڈ آف انویسٹمنٹ کاروباری ماحول بہتر بنانے کے لیے 550 سے زائد اصلاحات پر کام کررہا ہے، جبکہ بزنس فسیلیٹیشن سینٹر کے ذریعے سرمایہ کاروں کو ون ونڈو سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک سال کے دوران تقریبا ًڈھائی ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ہے، تاہم ملکی ضروریات کے مقابلے میں مزید بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری، برآمدات، روزگار اور صنعتی پیداوار میں اضافہ ہی پائیدار معاشی ترقی کی بنیاد بن سکتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک میں انتظامی اور معاشی اصلاحات کے ساتھ سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہوگا، کیونکہ صرف بیرونی سرمایہ کاری کی خواہش کافی نہیں بلکہ سرمایہ کاروں کو عملی سہولت، شفاف نظام اور آسان کاروباری طریقہ کار فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔قیصر احمد شیخ نے بتایا کہ امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر کے ساتھ بھی پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری روابط بڑھانے پر بات چیت ہوئی ہے۔ دونوں جانب سے معدنیات، توانائی، زراعت، آئی ٹی، صحت اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ پاکستان میں کاروباری ماحول بہتر بنانے کے لیے ریگولیٹری اصلاحات پر بھی گفتگو ہوئی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر سفارتی روابط کو معاشی مواقع میں تبدیل کرنا ہوگا۔ حکومت کی کوشش ہے کہ مختلف ممالک کے سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کریں، صنعتیں لگائیں، روزگار پیدا ہو اور برآمدات میں اضافہ ہو۔وفاقی وزیر نے کہا کہ آج کراچی پریس کلب آنے کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ میڈیا اور صحافیوں کے ذریعے معاشی معاملات پر کھل کر بات کی جائے اور عالمی سطح پر پاکستان کی معیشت، سرمایہ کاری اور برآمدات کے حوالے سے ایک واضح پیغام پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں سرمایہ کاری بڑھے، برآمدات میں اضافہ ہو، صنعت کا پہیہ تیز ہو اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں تو معاشی مشکلات پر قابو پانے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔







