ہیلتھ کیئر ورکرز کی حفاظت اور ذہنی صحت یقینی بنانا ضروری ہے، مختار احمد بھرتھ

وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ نے کہا ہے کہ ہیلتھ کیئر ورکرز ہمارے نظام صحت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، ان کی فلاح و بہبود مریضوں کے تحفظ اور معیاری علاج سے براہ راست جڑی ہے، اس لیے صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کی حفاظت، فلاح و بہبود اور ذہنی صحت کے فروغ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ …

اسلام آباد۔19ستمبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ نے کہا ہے کہ ہیلتھ کیئر ورکرز ہمارے نظام صحت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، ان کی فلاح و بہبود مریضوں کے تحفظ اور معیاری علاج سے براہ راست جڑی ہے، اس لیے صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کی حفاظت، فلاح و بہبود اور ذہنی صحت کے فروغ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو طبی عملے کی فلاح و بہبود اور ذہنی صحت کے فروغ کے لیے منعقدہ قومی کانفرنس ’’ہیلنگ دی ہیلرز‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا کہ ڈاکٹروں کی ذہنی صحت کا خیال رکھنا ضروری ہے، کسی کے لیے میڈیکل کالج میں داخلہ لینا آسان نہیں ہوتا جبکہ میڈیکل کالج میں جا کر معلوم ہوتا ہے کہ یہ تو صرف آغاز ہے۔ میڈیکل کالجز سے نکلنے کے بعد طویل ڈیوٹیاں بھی انجام دینا پڑتی ہیں۔اگر کوئی پروفیسر کسی طالب علم کو ناپسند کرتا ہے تو طالب علم کی اچھی کارکردگی بھی نہیں دیکھی جاتی، یہ ایک المیہ ہے۔وزیر مملکت نے کہا کہ ہسپتال ڈاکٹرز چلا رہے ہیں، بیوروکریٹس نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کو چاہیے کہ ہر دو سال بعد ڈاکٹروں کے لائسنس کے حوالے سے جائزہ پالیسی بنائے۔

انہوں نے کہا کہ ہیلتھ پروفیشنلز کو خوف کے بغیر فرائض کی انجام دہی کے لیے قانونی تحفظ ملنا چاہیے، ہیلتھ ورکرز کے خلاف تشدد پر زیرو ٹالرنس ہونی چاہیے، اس کی مؤثر روک تھام اور فوری ردعمل ضروری ہے۔ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا کہ طبی خواتین کے لیے محفوظ، باعزت اور ہراسانی سے پاک کام کا ماحول یقینی بنانا ہوگا۔ انسداد ہراسگی کے حوالے سے پالیسی بنائی جائے گی، پالیسی بنانا ایک طویل کام ہے لیکن اس کا آغاز کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں تمام اسٹیک ہولڈرز اور صوبوں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کانفرنس کی سفارشات وزارت صحت کے ساتھ شیئر کی جائیں، وزارت صحت انہیں ترجیحی بنیادوں پر پالیسی کا حصہ بنائے گی۔

وزیر مملکت نے کہا کہ حکومت پاکستان میں ذہنی صحت کےشعبے کو مضبوط بنانے کے لیے جامع اقدامات کر رہی ہے۔ وزارت صحت پاکستان کی پہلی نیشنل مینٹل ہیلتھ پالیسی تشکیل دے رہی ہے، جس میں ذہنی بیماریوں کی بروقت تشخیص، روک تھام، علاج اور بحالی پر توجہ دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان یکم اور 2 اکتوبر 2026 کو اسلام آباد میں پہلی گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ کی میزبانی کرے گا۔

 

مزید خبریں