جامعات میں ہونے والی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال قومی ترقی اور معاشی خوشحالی کیلئے ناگزیر ہے، اورنگزیب خان کھچی

جامعات میں ہونے والی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال قومی ترقی اور معاشی خوشحالی کیلئے ناگزیر ہے، اورنگزیب خان کھچی

راولپنڈی۔30جون (اے پی پی):پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسدادِ منشیات و جرائم کے اشتراک سے منعقدہ جامع فیکلٹی ڈویلپمنٹ پروگرام ٹریننگ آف ٹرینرز بعنوان ’’پائیدار امن کے قیام کے لئے زراعت میں سماجی کاروباری صلاحیتوں کا فروغ‘‘ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا۔ اس تربیتی پروگرام کا مقصد جامعہ کے اساتذہ کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں میں اضافہ، زرعی شعبے میں سماجی کاروباری رجحانات کو فروغ دینا، نوجوانوں کو بااختیار بنانا اور پائیدار امن کے لئے جدید و مؤثر حکمتِ عملیوں کو فروغ دینا تھا۔اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اورنگزیب خان کھچی تھے جبکہ چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے بطور مہمانِ اعزاز شرکت کی۔

معزز مہمانوں کا استقبال وائس چانسلر بارانی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر قمر الزمان نے کیا۔ اس موقع پر ڈینز، ڈائریکٹرز، فیکلٹی ممبران اور اعلیٰ انتظامی افسران بھی موجود تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی نے کہا کہ اساتذہ کی پیشہ وارانہ تربیت کے ایسے پروگرام اعلیٰ تعلیمی اداروں کو مضبوط بنانے اور نئی نسل کو قومی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے تیار کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس نوعیت کی تربیت اساتذہ کی علمی و تدریسی استعداد میں نمایاں اضافہ کرتی ہے جس کے مثبت اثرات تعلیمی معیار کی بہتری کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ زرعی جامعات جیسا کہ بارانی زرعی یونیورسٹی غذائی تحفظ کو یقینی بنانے اور پائیدار زرعی ترقی کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جامعات میں ہونے والی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال قومی ترقی اور معاشی خوشحالی کے لئے ناگزیر ہے۔ انہوں نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمر الزمان اور ان کی ٹیم کو یو این او ڈی سی کے اشتراک سے ایک بروقت، مؤثر اور انتہائی اہمیت کے حامل فیکلٹی ڈویلپمنٹ پروگرام کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کہا کہ جامعات تحقیق، جدت، ٹیکنالوجی کے فروغ اور سماجی و معاشی ترقی کے اہم مراکز ہیں۔ انہوں نے طلبہ اور اساتذہ پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی تحقیقی منصوبوں، فیلوشپس اور مسابقتی ریسرچ پروگرامز میں بھرپور انداز میں حصہ لیں تاکہ انہیں عالمی معیار کے تحقیقی تجربات سے استفادہ ہو۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمر الزمان نے اپنے خطاب میں یو این او ڈی سی اور دیگر تمام شراکت دار اداروں کا پروگرام کی کامیابی میں بھرپور تعاون، غیر متزلزل عزم اور انتھک کاوشوں پر شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے تربیتی پروگرام کامیابی سے مکمل کرنے والے تمام فیکلٹی ممبران کو مبارکباد دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بارانی یونیورسٹی اپنے اساتذہ کی مسلسل پیشہ وارانہ ترقی کے ذریعے معیاری تعلیم کے فروغ کے لئے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ فیکلٹی ڈویلپمنٹ پروگرامز تدریسی طریقۂ کار، علمی معیار اور ادارہ جاتی کارکردگی میں بہتری کے لئے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بدلتے ہوئے عالمی تقاضوں کے پیش نظر جامعات کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ میں صرف ملازمت کے حصول کا رجحان پیدا کرنے کے بجائے کاروباری سوچ کو فروغ دیں۔

یو این او ڈی سی کے سینئر ایڈوائزر و آفس انچارج سید ارسلان شاہ نے بارانی یونیورسٹی اور یو این او ڈی سی کے درمیان مثالی اشتراک کو سراہتے ہوئے کہا کہ تربیت مکمل کرنے والے فیکلٹی ممبران کو مستقبل میں بھی یو این او ڈی سی کے مختلف پروگرامز میں شامل کیا جائے گا تاکہ انہیں مزید پیشہ وارانہ ترقی کے مواقع میسر آسکیں۔اس سے قبل یو این او ڈی سی کے سینئر لیگل ایکسپرٹ اور پروگرام کے چیف ٹرینر پروفیسر سید حسین حیدر نے تربیتی پروگرام کی سرگرمیوں، مختلف سیشنز اور حاصل شدہ نتائج پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے شرکاء کی غیر معمولی لگن، پیشہ وارانہ مہارت، بھرپور دلچسپی اور فعال شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اساتذہ نے تربیتی پروگرام کے دوران بہترین جذبے کا مظاہرہ کیا۔

اس موقع پر پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی اور وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کے درمیان مختلف شعبہ جات میں طویل المدتی ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینے کے لئے مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کئے گئے۔تربیتی پروگرام میں شریک فیکلٹی ممبران نے اس اقدام کو انتہائی مفید، معلوماتی، عملی اور پیشہ وارانہ اعتبار سے نہایت مؤثر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس تربیت نے انہیں سماجی کاروباری صلاحیتوں، کمیونٹی انگیجمنٹ، زرعی جدت، قائدانہ صلاحیتوں اور پائیدار امن کے فروغ سے متعلق نئی سوچ، عملی مہارتوں اور جدید تصورات سے روشناس کرایا جو مستقبل میں ان کی تدریسی، تحقیقی اور پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی میں معاون ثابت ہوں گے۔