اسلام آباد۔22دسمبر (اے پی پی):وزیر خزانہ کے مشیرخرم شہزادنے کہاہے کہ کلی معیشت کے استحکام،مختلف شعبوں میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور ملکی وبین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتمادمیں اضافہ سے سٹاک مارکیٹ میں تاریخی تیزی آ رہی ہے،سرمایہ کاروں کی تعداد4لاکھ 50ہزارسے بڑھ چکی ہے،ان میں سے ایک لاکھ 20ہزارسرمایہ کارگزشتہ 15ماہ میں شامل ہوئے۔ پیر کوسماجی رابطہ کی ویب سائیٹ ایکس پراپنے خصوصی ویڈیوپیغام میں انہوں نے کہاکہ پاکستان …
استحکام،مختلف شعبوں میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور ملکی وبین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتمادمیں اضافہ سے سٹاک مارکیٹ میں تاریخی تیزی آرہی ہے، خرم شہزاد
اسلام آباد۔22دسمبر (اے پی پی):وزیر خزانہ کے مشیرخرم شہزادنے کہاہے کہ کلی معیشت کے استحکام،مختلف شعبوں میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور ملکی وبین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتمادمیں اضافہ سے سٹاک مارکیٹ میں تاریخی تیزی آ رہی ہے،سرمایہ کاروں کی تعداد4لاکھ 50ہزارسے بڑھ چکی ہے،ان میں سے ایک لاکھ 20ہزارسرمایہ کارگزشتہ 15ماہ میں شامل ہوئے۔
پیر کوسماجی رابطہ کی ویب سائیٹ ایکس پراپنے خصوصی ویڈیوپیغام میں انہوں نے کہاکہ پاکستان سٹاک مارکیٹ نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے، کے ایس ای 100انڈیکس 1لاکھ 71ہزارپوائنٹس تک چلاگیاہے جوایک نیاریکارڈہے،مارکیٹ میں تیزی کایہ سلسلہ جاری رہے گااورامیدہے کہ مارکیٹ میں نئی سرمایہ کاری بھی آئیگی۔ خرم شہزادنے کہاکہ رواں سال جنوری سے لیکر دسمبر کے وسط تک سٹاک مارکیٹ نے 48فیصدریٹرن دیاہے،اس حوالہ سے یہ عالمگیرمارکیٹ میں سے کلیدی مارکیٹ بن گئی ہے جہاں سب سے زیادہ ریٹرن مل رہاہے۔گزشتہ دوسالوں میں 200فیصدریٹرن دیا گیاہے جودنیاکی کسی سٹاک مارکیٹ نے نہیں دیا۔
انہوں نے کہاکہ کلی معیشت کااستحکام،مختلف شعبوں میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور ملکی وبین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتمادمیں اضافہ وہ عوامل ہیں جن کی وجہ سے سٹاک مارکیٹ میں تیزی آرہی ہے،ان اقدامات سے یہ بھی واضح ہواہے کہ ملکی معیشت کی سمت درست ہے۔ انہوں نے کہاکہ خوش آئندبات یہ ہے کہ سٹاک مارکیٹ میں زیادہ تعدادمیں نئے سرمایہ کارآرہے ہیں اوراب تک سرمایہ کاروں کی تعداد4لاکھ 50ہزارسے بڑھ چکی ہے،ان میں سے ایک لاکھ 20ہزارسرمایہ کارگزشتہ 15ماہ میں شامل ہوئے ہیں،اچھی بات یہ ہے کہ اس میں انفرادی ریٹیل سرمایہ کارزیادہ آرہے ہیں کہ اب عوام سٹاک اورایکویٹی مارکیٹ کی طرف آرہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ جنوری سے لیکرستمبرتک کارپوریٹ منافع میں 14فیصداضافہ ہواہے،جولائی سے ستمبرتک کی مدت میں منافع میں 9فیصداضافہ ریکارڈہواہے،اس کامطلب یہ ہے کہ شرح سودمیں کمی سے منافع میں بہتری آرہی ہے اورصنعتوں کوسہولت مل رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ میوچل فنڈز کے اثاثہ جات بڑھ گئے ہیں جو خوش آئندہے،میوچل فنڈ کے اثاثے چارکھرب روپے سے تجاوزکرچکے ہیں،ایکویٹی مارکیٹ میں میوچل فنڈ کااوسط 27فیصدرہاہے۔
خرم شہزادنے کہاکہ ایک اوراچھی خبریہ ہے کہ 16نئے آئی پی اوز آرہے ہیں، اس سے سرمایہ کاروں کومزیدمواقع دستیاب ہوں گے،کئی دہائیوں میں ایسانہیں ہواہے کہ ایک سال کی مدت میں 16نئی آئی پی اوآئی ہوں یہ بہت بڑے اعتمادکی نشانی ہے،2022ء میں بلین ڈالرزمالیت کمپنیوں کی تعداد3تھی جواب 18ہوچکی ہیں،مستقبل میں اس میں مزیداضافہ کاامکان ہے۔









