نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرا کر خود انحصاری کی راہ پر گامزن کرنا ہوگا،پاکستان کی ثقافت و ورثہ عالمی سطح پر ملکی شناخت بن سکتے ہیں ، احسن اقبال

نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرا کر خود انحصاری کی راہ پر گامزن کرنا ہوگا،پاکستان کی ثقافت و ورثہ عالمی سطح پر ملکی شناخت بن سکتے ہیں ، احسن اقبال

لاہور۔3ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کی نوجوان نسل کو جدید ٹیکنالوجی کے ٹولز سے روشناس کراکے ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا ہوگا جہاں وہ خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھ سکے، پاکستان کی ثقافت، آرٹ، موسیقی، فیشن اور صدیوں پرانے ورثے کو فروغ دے کر ملکی برانڈ کو عالمی سطح پر شناخت دلائی جا سکتی ہے، آئندہ 10 سے 15 سال میں پاکستان کو ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کے لیے پوری قوم کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔وہ جمعرات کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن اینڈ ڈیزائن میں تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ آج اس منصوبے کا جائزہ لینے کے لیے یہاں آئے ہیں جو حکومت نے شروع کیا ہے ،کوشش ہے کہ منصوبہ رواں سال مکمل کرلیا جائے اور ادارے میں طلبہ کو تمام ضروری سہولیات میسر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن اینڈ ڈیزائن اڑان پاکستان کی بنیاد کا اہم حصہ ہے،آج کی دنیا برانڈ کی دنیا اور کسی بھی ملک کی پہچان اس کے مضبوط برانڈ سے بنتی ہے، پاکستان کے برانڈ کو عالمی شناخت دینے کے لیے آرٹ، فن، فیشن اور صنعت سمیت تمام شعبوں کو ترقی دینا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ جدید معیشت میں فن، آرٹ اور موسیقی کی اہمیت بڑھ گئی ہے،اس لیے پاکستان کی نوجوان نسل کو اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانے کے لیے سازگار ماحول اور جدید پلیٹ فارم فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، ہمارے نوجوان باصلاحیت ہیں، ان میں خودی اور آگے بڑھنے کی صلاحیت موجود ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں ایسا نظام دیا جائے جس میں وہ کسی کے محتاج نہ ہوں اور اعتماد کے ساتھ اپنی منزل کی طرف بڑھ سکیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ علامہ اقبال نے ہماری ثقافت میں نوجوانوں کو خودی، عزم اور جدوجہد کا جو جذبہ دیا تھا ،ہم کسی حد تک اسے کھو بیٹھے اور مغرب سے حد سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، ہمیں اپنی ثقافت، روایات اور پاکستانیت کو بنیاد بنا کر اپنی منفرد شناخت تشکیل دینا ہوگی، ہمارے پاس صدیوں پرانا تہذیبی اور ثقافتی ورثہ موجود ہے جسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے دنیا کے سامنے پیش کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور جدید ٹیکنالوجی نے ایسے امکانات پیدا کردیئے ہیں جن کے ذریعے مہینوں اور سالوں میں ہونے والا کام سیکنڈز میں مکمل کیا جاسکتا ہے، آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور اے آئی کے ٹولز سے آگاہ کیا جائے تاکہ وہ عالمی سطح پر مسابقت کے قابل ہوسکیں۔

احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی زیادہ تر آبادی نوجوانوں پر مشتمل اور اڑان پاکستان کی تھیم بھی نوجوانوں کے لیے موثر مواقع اور منصوبہ بندی فراہم کرنا ہے، آئندہ 20 سے 25 سال میں پاکستان کو کہاں لے کر جانا ہے، اس کا فیصلہ نوجوان بہتر انداز میں کرسکتے ہیں، اس لیے انہیں قومی ترقی کے عمل میں فعال شراکت دار بنانا ہوگا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ آج دنیا میں انتشار پیدا کرنے کے ذرائع میں اضافہ ہوگیا ہے ، سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں میں نفرتیں اور تعصبات پیدا کیے جارہے ہیں،ہمیں نفرت اور تقسیم سے خود کو محفوظ رکھنا ہوگا کیونکہ اگر معاشرے میں تعصب اور نفرت کا بیج بو دیا جائے تو انتہا پسندی کو فروغ ملتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو آگے لے کر جانا ہے تو قوم کو متحد ہونا ہوگا، پاکستان متنوع لوگوں کی سرزمین ہے، ہمارے سیاسی نظریات مختلف ہوسکتے ہیں لیکن ہمارا ڈاک خانہ ایک یعنی پاکستان ہونا چاہیے، اگر ڈاک خانے الگ الگ ہوں گے تو تقسیم پیدا ہوگی، اس لیے ہمیں ہر قسم کی تقسیم سے بچنا ہوگا۔ احسن اقبال نے کہا کہ اللہ تعالی نے آج پاکستان کو وہ مقام دیا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں ملا، 28 مئی کو قوم متحد ہوئی اور پہلی مرتبہ دنیا کو بتایا کہ ہم چھوٹے ضرور ہیں لیکن اپنے دفاع اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے بھارت کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدے سے پاکستان کا عالمی مقام مزید بلند ہوا ہے، ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے دوران پاکستان نے بھی اپنا کردار ادا کیا اور امریکا میں بھی پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا جارہا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ معرکہ حق کے بعد اب معرکہ ترقی میں کامیاب ہونا ہے ،اگر ہم معرکہ ترقی سر نہ کرسکے تو باقی کامیابیاں بے معنی ہوجائیں گی، آئندہ 10 سے 15 سال میں قوم کو ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ پاکستان کو ٹریلین ڈالر کی معیشت بنایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی یوتھ کو سماجی تبدیلی کا ایجنٹ بنانا ہوگا، ہم سب نے مل کر ڈھائی کروڑ بچوں کو سکول لانا ہے، جبکہ نوجوان شجرکاری مہم میں بھرپور حصہ لے کر گرین پاکستان کے خواب کو حقیقت میں بدل سکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ نوجوان ملک کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

مزید خبریں