اسرائیل نے شمالی مغربی کنارے میں نئی زمینوں پر قبضہ کر لیا،فلسطینی اتھارٹی

مغربی کنارے کی فلسطینی اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی قابض حکام نے شمالی مغربی کنارے کی گورنری جنین میں واقع قبصے "قباطيہ” کی 7.5 دونم یا لگ بھگ 7.5 کلومیٹر زمین پر سکیورٹی اور فوجی انتظامات کے نام پر فوری اور ہنگامی نوعیت کے فوجی حکم کے ذریعے قبضہ کر لیا ہے۔

رام اللہ ۔5ستمبر (اے پی پی):مغربی کنارے کی فلسطینی اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی قابض حکام نے شمالی مغربی کنارے کی گورنری جنین میں واقع قبصے "قباطيہ” کی 7.5 دونم یا لگ بھگ 7.5 کلومیٹر زمین پر سکیورٹی اور فوجی انتظامات کے نام پر فوری اور ہنگامی نوعیت کے فوجی حکم کے ذریعے قبضہ کر لیا ہے۔العربیہ کے مطابق وال اینڈ سیٹلمنٹ رزسٹنس کمیشن نے ایک پریس ریلیز ، جسے فلسطینی نیوز اینڈ انفارمیشن ایجنسی (وفا) نے نقل کیا ہے، میں کہا کہ فوجی حکم قصبے کی زمین کے مخصوص حصوں کو نشانہ بناتا ہے۔

کمیشن نے نشاندہی کی کہ قابض فوج کا ارادہ ایک لمبا راستہ بنانے کا ہے جو ایک موجودہ سڑک سے شروع ہو کر اس علاقے پر ختم ہوتا ہے جو علاقے میں ایک نیا فوجی برج بنانے کی جگہ کے طور پر طے کیا گیا ہے۔کمیشن نے بتایا کہ فوجی حکم نے اس کے دستخط کی تاریخ سے 60 دن کی مدت نافذ کی ہے جس نے اسرائیلی فوج کی وزارت کے امور کے افسر کو ان زمینوں کا مطلق قبضہ دے دیا ہے۔ یہ وضاحت بھی کی گئی کہ اس فیصلے نے متاثرہ باشندوں کے اعتراض جمع کرانے کے حق کو انتہائی تنگ وقت تک محدود کر دیا ہے جو "اسرائیلی کوآرڈینیشن اینڈ لائزن ڈائریکٹوریٹ” کے طے کردہ فیلڈ ٹور کی عمل آوری کی تاریخ سے 24 گھنٹوں سے زیادہ نہیں ہے۔

کمیشن نے کہا کہ یہ فیلڈ پوزیشننگ اسرائیل کے ایسے نقطہ نظر کی تصدیق کرتی ہے جو فلسطینی جغرافیہ کو فوجی احکامات میں ڈبونے کے لیے سکیورٹی ضروریات کو ایک کور کے طور پر استعمال کرنے پر مبنی ہے۔ اس کا مقصد سڑکیں بنانا اور بنیادی ڈھانچہ قائم کرنا ہے جو عملًا مزید زمینوں کو ہڑپ کرنے کی راہ ہموار کرتا ہے اور علاقے میں ہمہ گیر نوآبادیاتی توسع کو آسان بناتا ہے۔