اسلام آباد۔24جنوری (اے پی پی):اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو طویل المدتی رعایتی ماڈل کے تحت نجکاری پروگرام میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ہفتہ کووزارتِ نجکاری اور نجکاری کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق حکومت تین بڑے ہوائی اڈوں اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ (آئی آئی اے پی)، کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ (جے آئی اے پی) اور لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ (اے آئی آئی اے …
اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو طویل المدتی رعایتی ماڈل کے تحت نجکاری پروگرام میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، وزارتِ نجکاری
اسلام آباد۔24جنوری (اے پی پی):اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو طویل المدتی رعایتی ماڈل کے تحت نجکاری پروگرام میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ہفتہ کووزارتِ نجکاری اور نجکاری کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق حکومت تین بڑے ہوائی اڈوں اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ (آئی آئی اے پی)، کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ (جے آئی اے پی) اور لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ (اے آئی آئی اے پی) کی آپریشنل سرگرمیوں کو مختلف مناسب طریقہ کار کے تحت آؤٹ سورس کرنے کے امکانات پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے جن میں مینجمنٹ کنٹریکٹس اور طویل المدتی کمرشل رعایتی معاہدے شامل ہیں۔
اسی حکمتِ عملی کے تحت اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو کراچی اور لاہور کے ہوائی اڈوں کے ساتھ جاری عمل کے مطابق فعال نجکاری پروگرام میں شامل کر لیا گیا ہے،حکومت کے بنیادی مقاصد میں کارکردگی میں بہتری، سروس ڈیلیوری کا معیار بہتر کرنا، آمدن میں اضافہ، انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن اور ملکی و غیر ملکی نجی سرمایہ کاری کا فروغ شامل ہے۔ اس سلسلے میں متحدہ عرب امارات، ترکیہ، سعودی عرب سمیت دیگر بین الاقوامی شراکت دار ممالک کے اداروں سے تعمیری مکالمہ کیا گیا ہے۔
یہ اقدامات پاکستان کے وسیع تر اقتصادی وژن کے مطابق ہیں جن کا مقصد ہوا بازی کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو فروغ دینا ہے۔نجکاری کمیشن نے بعض گمراہ کن رپورٹس کا نوٹس لیا ہے جن میں اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے متعلق کسی مجوزہ معاہدے کی منسوخی کا تاثر دیا گیا ہے جس کی سختی سے تردید کی جاتی ہے۔
اس تناظر میں یہ دعویٰ کہ پاکستان نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ اسلام آباد ایئرپورٹ کا کوئی لیز معاہدہ منسوخ کر دیا ہےحقائق کے منافی اور گمراہ کن ہے، کیونکہ اسلام آباد ایئرپورٹ سمیت کسی بھی ہوائی اڈے کے لیے اس نوعیت کا کوئی معاہدہ یا لیز کبھی طے ہی نہیں پایا۔ نومبر 2025 میں مختلف سرمایہ کاروں کی جانب سے ان رعایتی منصوبوں میں غیر معمولی دلچسپی کے پیش نظر حکومت نے تینوں ہوائی اڈوں کے لیے جی ٹو جی ماڈل کے بجائے اوپن بولی کے طریقہ کار پر منتقل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس مسابقتی عمل کے تحت تمام ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مساوی مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ یہ فیصلہ مکمل طور پر اقتصادی اور طریقہ کار سے متعلق بنیادوں پر کیا گیا ہے اور اس کا کسی قسم کا سیاسی یا سفارتی پس منظر نہیں ہے۔ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ کے لیے مجوزہ مسابقتی عمل میں شمولیت کو ترجیح دی جائے گی جس کے تحت تمام اہل اداروں، بشمول دوست ممالک اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے سرمایہ کاروں کومساوی مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ اس کا مقصد شفافیت اور منصفانہ مسابقت کو فروغ دینا، پاکستان کی معیشت کے لیے بہترین نتائج حاصل کرنااور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔









