اسلام آباد میں تعینات امریکی ناظم الامور کو وزارتِ خارجہ طلب کیا گیا اور بھارت میں امریکہ کے سفیر کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے دورے کے دوران جموں و کشمیر کی حیثیت سے متعلق حقائق کے منافی بیانات پر سخت احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔
اسلام آباد میں تعینات امریکی ناظم الامور وزارتِ خارجہ طلب

مزید خبریں
اسلام آباد۔19اگست (اے پی پی):اسلام آباد میں تعینات امریکی ناظم الامور کو وزارتِ خارجہ طلب کیا گیا اور بھارت میں امریکہ کے سفیر کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے دورے کے دوران جموں و کشمیر کی حیثیت سے متعلق حقائق کے منافی بیانات پر سخت احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔
دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق پاکستان نے جموں و کشمیر کو ’’بھارت کا حصہ‘‘ قرار دینے سے متعلق بیان کی سختی سے مذمت اور اسے دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہےجس کا حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا باقی ہے۔
اس پر زور دیا گیا کہ امریکی سفیر کا غیر ذمہ دارانہ بیان جموں و کشمیر کے تنازعہ پر امریکہ کے دیرینہ اور دستاویزی مؤقف کی نفی کرتا ہے اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی بالادستی کے لئے امریکہ کے عزم سے بھی متصادم ہے۔
دفتر خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ معرکہ حق کے تناظر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جموں و کشمیر کے تنازعہ کے حل کے لئے بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالثی کی پیشکش کو سراہتے ہوئے امریکی فریق پر زور دیا گیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کے عوامی بیانات جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت سے مطابقت رکھتے ہوں۔








