"اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور پاکستان کلچرل فورم کے زیرِ اہتمام جشنِ آزادی کے سلسلے میں مشاعرہ منعقد ہوا، جس کی صدارت معروف شاعر و دانشور پروفیسر جلیل عالی نے کی جبکہ اکادمی ادبیات کی چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف مہمانِ خصوصی تھیں۔”
اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اورپاکستان کلچرل فورم کے زیر اہتمام جشنِ آزادی کے سلسلے میں مشاعرہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔16اگست (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اورپاکستان کلچرل فورم کے زیر اہتمام جشنِ آزادی کے سلسلے میں مشاعرے کا انعقاد کیا گیاجس کی صدارت معروف شاعر و دانشور پروفیسر جلیل عالی نے کی جبکہ اکادمی ادبیات کی چیرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف مہمانِ خصوصی تھیں۔
تقریب میں معروف شعراء،ادیبوں، دانشوروں اور اہلِ ذوق کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئےچیئرمین پاکستان کلچرل فورم ظفر بختاوری نے کہا کہ پاکستان ہماری شناخت اور آزادی ہماری عظیم نعمت ہےجبکہ جشنِ آزادی کے موقع پر مشاعرے کا انعقاد ملک و ملت کے بارے میں ہماری اجتماعی سوچ اوراحساسات کا عکاس ہے۔تحریکِ آزادی میں شعراء اور ادیبوں نےاہم کردار ادا کیا۔ علامہ اقبالؒ مصورِ پاکستان تھے اور قائداعظمؒ نے ان کے خواب کو تعبیر دی۔قومی ترانے کا عظیم تحفہ بھی شاعر حفیظ جالندھری نے قوم کو دیا۔ شاعر اور ادیب معاشرے کی فکری رہنمائی کرتے اور قوم کودرست سمت عطا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ علامہ اقبالؒ کےخواب کی تعبیر کا سفر آج بھی جاری ہے اور عالمی سطح پرپاکستان کا کردار مزید اہم ہو رہا ہے۔ مکہ معاہدہ اور مسلم ممالک کے اتحاد کے حوالے سےپاکستان کا کردار اس کی عالمی اہمیت کا مظہر ہے۔ شعراء اور ادیبوں کو چاہیے کہ وہ اپنی تخلیقات کے ذریعے نئی نسل کو اپنی ثقافت، قومی زبان اور قومی اقدار سے جوڑیں۔ شاعری اور ادب قوموں میں حب الوطنی، قومی یکجہتی اور مثبت سوچ کو فروغ دینے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ جشنِ آزادی کے موقع پر ادبی سرگرمیوں کا انعقاد نئی نسل کو قیامِ پاکستان کی جدوجہد اور بزرگوں کی لازوال قربانیوں سے روشناس کرانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔صدرِ محفل پروفیسر جلیل عالی نے کہا کہ پاکستان کا خواب ایک شاعر نے دیکھا اور علامہ اقبالؒ جیسے بے مثال شاعر نے دنیا بھر کے مسلمانوں میں بیداری کی نئی روح پھونکی۔ آج بھی اقبالؒ کی شاعری عالمی استعماریت کے خلاف ہماری فکری مزاحمت کی بڑی قوت ہے۔ پاکستان نے 80 سال کے اتار چڑھاؤ کے باوجود اپناوجود برقرار رکھا ہے۔ آزادی محض ایک دن منانے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مسلسل ذمہ داری ہے۔ ہمیں قائداعظمؒ کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے پاکستان کو علم، تعلیم، امن اور ترقی کے راستے پر آگے لے کر جانا ہے۔مہمانِ خصوصی چیرپرسن اکادمی ادبیات ڈاکٹر نجیبہ عارف نے کہا کہ صنعت و تجارت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، تاہم ذاتی کاروباری مقاصد کے ساتھ کاروباری افراد کی ملک و ملت سے متعلق فکری وابستگی بھی قابلِ تحسین ہے۔ پاکستان کے قیام کا مقصد انسانی حقوق کا تحفظ، قانون و انصاف کی بالادستی اور ایک ایسا معاشرہ قائم کرنا تھا جہاں ہر فرد کو ترقی کے مساوی مواقع میسر ہوں۔ ان مقاصد کے حصول کے لیے علم و ادب اہم ترین ذرائع ہیں۔ کاروباری برادری کی جانب سے علم و ادب کے فروغ میں کردار قابلِ تعریف ہے۔پاکستان کی آزادی ہمارے بزرگوں اور شہداء کی لازوال قربانیوں کا ثمر ہے، اس لیے ادیبوں اور شعراء کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی تخلیقات کے ذریعے نوجوان نسل میں حب الوطنی اور قومی شعور کو اجاگر کریں۔ قائم مقام صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری عرفان چوہدری نے تمام مہمانوں کو خوش آمدید کیا اور کہا کہ ثقافت اور ادب قوموں کے دلوں کو زندہ رکھنے کا ذریعہ ہیں۔ ہمیں معیشت کے ساتھ ساتھ اپنے ادبی اور ثقافتی ورثے کو بھی مضبوط بنانا ہوگا۔ جشنِ آزادی کے اس موقع پر شاعری کے ذریعے پاکستان کو ایک باوقار، خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بنانے کے عزم کی تجدید کرتے ہیں۔مشاعرے میں شکیل جاذب، ، ڈاکٹر جنید آذر، پروفیسر راشدہ ماہین ملک، سعید راجا، ڈاکٹر شازیہ اکبر، ڈاکٹر مہناز انجم، ڈاکٹر رباب تبسم اور دیگر معروف شعراء نے اپنا کلام پیش کیا۔ شعراء نے اپنے اشعار کے ذریعے وطن سے محبت، آزادی کی قدر و منزلت، قومی یکجہتی اور پاکستان کے روشن مستقبل کے جذبات کو اجاگر کیا، جسے شرکاء نے بھرپور داد و تحسین سے سراہا۔







