اسلام آباد ہائی کورٹ نے مسابقتی کمیشن کے عائد کردہ 15 کروڑ روپے جرمانے کے خلاف کنگڈم ویلی کی درخواست خارج کر دی

اسلام آباد۔19نومبر (اے پی پی):اسلام آباد ہائی کورٹ نے کنگڈم ویلی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی مسابقتی کمیشن آف پاکستان کی جانب سے ہائوسنگ پراجیکٹ پر عائد کئے گئے 15 کروڑ روپے جرمانے کے خلاف دائر اپیل نا قابلِ سماعت قرار دے کر خارج کر دی ہے۔بدھ کے روز مسابقتی کمیشن کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ مسابقتی کمیشن کے فیصلوں کے خلاف اپیل …

اسلام آباد۔19نومبر (اے پی پی):اسلام آباد ہائی کورٹ نے کنگڈم ویلی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی مسابقتی کمیشن آف پاکستان کی جانب سے ہائوسنگ پراجیکٹ پر عائد کئے گئے 15 کروڑ روپے جرمانے کے خلاف دائر اپیل نا قابلِ سماعت قرار دے کر خارج کر دی ہے۔بدھ کے روز مسابقتی کمیشن کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ مسابقتی کمیشن کے فیصلوں کے خلاف اپیل کا مناسب فورم مسابقتی اپیلیٹ ٹربیونل ہے جو کہ اب فعال ہو چکا ہے۔واضح رہے کہ ستمبر اور اکتوبر کے تقربیاً دو ماہ کے دوران مسابقتی اپیلیٹ ٹربیونل اپنے چیئرمین کی عدم دستیابی کے باعث غیر فعال تھا۔

اس عرصہ کےدوران کنگڈم ویلی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی تھی۔ عدالت نے جرمانے کی ریکوری پر عبوری حکمِ امتناع جاری کیا تھا۔مسابقتی کمیشن کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ حکومت کی جانب سے مسابقتی اپیلٹ ٹربیونل کے چیئرمین کی تعیناتی کے بعد اب ٹربیونل فعال ہے ۔ ٹربیونل کنگڈم ویلی کی اپیل پہلے ہی سماعت کے لئے مقرر کر چکا ہے اور کسی قسم کا حکمِ امتناع جاری نہیں کیا گیا۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے درخواست خارج کرتے ہوئے درخواست گزار کمپنی کو ٹربیونل سے رجوع کرنے کی ہدایت کی۔ مسابقتی کمیشن نے گمراہ کن مارکیٹنگ اور اشتہارات پر کنگڈم ویلی پر 15 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔

کمیشن کی انکوئری کے مطابق کنگڈم ویلی نامی کمپنی نے اپنے منصوبے کو "کنگڈم ویلی اسلام آباد” کے طور پر مشتہر کیا حالانکہ یہ رہائشی منصوبہ دراصل راولپنڈی کے موضع چھورہ میں واقع ہے۔ کمپنی نے منصوبے کو نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام اور نیا پاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے بھی منظور شدہ ہونے کا غلط تاثر دیا ۔ کمپنی کی جانب سے منصوبے کو غلط طور پر "این او سی اور منظور شدہ” قرار دیا گیا ۔مسابقتی کمیشن کے دو رکنی بنچ نے کمپنی پر مسابقتی ایکٹ 2010 کی خلاف ورزی پر 15 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد اب یہ معاملہ مسابقتی اپیلیٹ ٹربیونل میں سنا جائے گا ۔ ٹربیونل میں اپیل پہلے ہی زیرِ سماعت ہے اور کمیشن کے فیصلے کے خلاف کسی قسم کا حکمِ امتناع موجود نہیں ہے۔