اسلام آباد۔17دسمبر (اے پی پی):سابق رکن قومی اقلیتی کمیشن البرٹ ڈیوڈ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے صفائی کے عملہ کے حقوق اور وقار کے تحفظ سے متعلق حالیہ فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلہ نے نہ صرف ایک دیرینہ مسئلہ کی سنگینی کو اجاگر کیا ہے بلکہ ریاستی اداروں کی ذمہ داریوں کو بھی واضح طور پر سامنے رکھا ہے۔ البرٹ ڈیوڈ نے بدھ کو یہاں …
اسلام آباد ہائی کورٹ کا صفائی کے عملہ کے حقوق اور وقار کے تحفظ سے متعلق حالیہ فیصلہ حوصلہ افزاءہے، سابق رکن قومی اقلیتی کمیشن البرٹ ڈیوڈ کا بیان
اسلام آباد۔17دسمبر (اے پی پی):سابق رکن قومی اقلیتی کمیشن البرٹ ڈیوڈ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے صفائی کے عملہ کے حقوق اور وقار کے تحفظ سے متعلق حالیہ فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلہ نے نہ صرف ایک دیرینہ مسئلہ کی سنگینی کو اجاگر کیا ہے بلکہ ریاستی اداروں کی ذمہ داریوں کو بھی واضح طور پر سامنے رکھا ہے۔ البرٹ ڈیوڈ نے بدھ کو یہاں اپنے بیان میں کہا کہ صفائی کا عملہ معاشرے کا وہ طبقہ ہے جو انتہائی اہم اور بنیادی خدمات سر انجام دیتا ہے لیکن اس کے باوجود انہیں اکثر خطرناک حالاتِ کار، امتیازی سلوک اور ادارہ جاتی غفلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدالتِ عالیہ کے فیصلے نے ان ناانصافیوں کو تسلیم کرتے ہوئے ایک مضبوط قانونی نظیر قائم کی ہے جو مستقبل میں پالیسی سازی اور ادارہ جاتی اصلاحات کےلئے سنگِ میل ثابت ہوگی۔ البرٹ ڈیوڈ نے کہا کہ معزز عدالت نے اپنے فیصلے میں انسانی وقار، مساوات اور آئینی حقوق کے بنیادی اصولوں کو جس وضاحت اور ہمدردی کے ساتھ اجاگر کیا ہے وہ قابلِ تحسین ہے، اس سے سینٹری ورکرز کی آسامیوں کےلئے شائع ہونے والے اشتہارات میں مذہب کو بنیادی اہلیت کو بنیاد بنانے کے سلسلہ کو روکنے میں بھی مدد ملے گی.
یہ فیصلہ نہ صرف صفائی کے عملے بلکہ ان ہزاروں خاندانوں کے لئے امید کی نئی کرن ہے جو طویل عرصے سے اپنے حقوق کے تحفظ کے منتظر تھے۔ انہوں اس عزم کا اظہار کیا کہ اس فیصلے کی روشنی میں متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں تاکہ صفائی کے عملے کو محفوظ ماحول، مناسب سہولیات اور عزتِ نفس کے مطابق برتائو کیا جاسکے۔









