اسلام میں فضیلت کا معیار نسب، ذات یا سابقہ مذہب نہیں بلکہ تقویٰ اور نیک عمل ہے، سپریم کورٹ

اسلام آباد۔18فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے ایک اہم فیصلے میں واضح قرار دیا ہے کہ اسلام میں “نو مسلم” اور “مسلم” کی کوئی درجہ بندی موجود نہیں اور کسی بھی نومسلم کو الگ شناخت دے کر پکارنا نہ شرعاً درست ہے اور نہ ہی آئینی طور پر قابلِ قبول۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلے کے مطابق جسٹس محمد ہاشم …

اسلام آباد۔18فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے ایک اہم فیصلے میں واضح قرار دیا ہے کہ اسلام میں “نو مسلم” اور “مسلم” کی کوئی درجہ بندی موجود نہیں اور کسی بھی نومسلم کو الگ شناخت دے کر پکارنا نہ شرعاً درست ہے اور نہ ہی آئینی طور پر قابلِ قبول۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلے کے مطابق جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جیسے ہی کوئی شخص اسلام قبول کرتا ہے وہ دیگر تمام مسلمانوں کے برابر درجہ، عزت اور حقوق کا حامل ہوتا ہے۔ اسلام میں فضیلت کا معیار نسب، ذات یا سابقہ مذہب نہیں بلکہ تقویٰ اور نیک عمل ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ ایف آئی آر یا سرکاری ریکارڈ میں کسی شخص کے نام کے ساتھ “نو مسلم” جیسا سابقہ لگانا امتیازی طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے۔ اس نوعیت کی اصطلاحات نہ صرف اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں بلکہ آئینِ پاکستان میں دی گئی برابری اور انسانی وقار کی ضمانت کے بھی خلاف ہیں۔فیصلے میں آبزرویشن دی گئی کہ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی شہری کی شناخت کو ایسے الفاظ کے ذریعے مشکوک یا کم تر ظاہر نہ کریں۔

عدالت کے مطابق مذہبی تبدیلی کسی شخص کے احترام، قانونی حیثیت یا سماجی مقام میں کمی کا جواز نہیں بن سکتی۔سپریم کورٹ نے زور دیا کہ قانون کی نظر میں تمام شہری برابر ہیں اور کسی بھی قسم کی درجہ بندی یا تمیز اسلامی اور آئینی اصولوں سے متصادم ہے۔