سٹی یونیورسٹی پشاور میں یومِ آزادی کی پروقار تقریب، طلبا کے ملی نغموں پر روایتی رقص اور مختلف قبائل کے جوانوں کی شاندار پرفارمنس
خیبر پختونخوا کا روایتی رقص اتن، پختون ورثے کو زندہ رکھنے کا ایک ذریعہ

مزید خبریں
پشاور۔ 23 اگست (اے پی پی):سٹی یونیورسٹی پشاور کے کے زیر اہتمام یومِ آزادی کی مناسبت سے پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا ، طلبا نے ملی نغموں پر روایتی رقص کر کے محفل کو مزید گرما دیا۔مختلف قبیلوں کے جوانوں نے اپنی شاندار پرفارمنس سے حاضرین کو سحر انگیز کر دیا ۔
اتن رقص میں حصہ لینے والے مرتضیٰ وزیر نے اے پی پی کو بتایا کہ اتن ایک منفرد رقص ہے جو زیادہ تر قومی تقاریب، شادیوں، سالگرہ کی تقاریب، مہمانوں کے استقبال اور عید جیسے پرمسرت تہواروں پر پیش کیا جاتا ہے۔ سبز ٹوپی پہنے مرتضیٰ وزیر نے کہا کہ اتن وزیرستان کا ایک مقبول ترین رقص رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کی طاقت نہ صرف تال میں ہے بلکہ لوگوں کو ایک ساتھ لانے کی صلاحیت میں بھی ہے۔ ثقافتی منتقلی کا وہ غیر رسمی نظام اب سمارٹ فونز اور سوشل میڈیا سے تقویت پا رہا ہے اور بعض اوقات اس کی جگہ لے رہا ہے۔ وہ رقص جو کبھی وزیرستان کے کسی گاؤں کے صحن تک محدود تھا، اب موبائل فون پر ریکارڈ کیا جا سکتا ہے اور چند گھنٹوں میں ہزاروں لوگ اسے دیکھ سکتے ہیں۔ ثقافتی پرفارمنس فیس بک، ٹک ٹاک اور یوٹیوب کے ذریعے سفر کرتی ہیں ۔سوشل میڈیا نے روایتی فنکاروں کو اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک طاقتور پلیٹ فارم دیا ہے ۔ پرائیڈ آف پرفارمنس پشتو غزل کے استاد خیال محمد جنہوں نے پاکستان اور بیرونِ ملک فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو دہائیوں سے زیادہ وقت گزارا ہے، نے کہا کہ خیبر پختونخوا، اسلام آباد، کراچی اور دبئی میں ان کی پرفارمنس کے دوران اکثر اتن کے گانوں کی فرمائش کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی میں لائیو پرفارمنس کے لیے کراچی یا متحدہ عرب امارات کا سفر کرتا تھا، پختون اکثر اتن کے گانوں کا مطالبہ کرتےہیں۔ میں نے دبئی اور شارجہ سمیت ثقافتی شوز کے لیے کئی ممالک کا دورہ کیا ہے لیکن پاکستان میں پائی جانے والی منفرد ثقافتی تنوع شاذ و نادر ہی کہیں دیکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روایتی رقص نہ صرف نوجوانوں کے لیے تفریح کا ایک ذریعہ ہے بلکہ خیبر پختونخوا کی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنے کا ایک ذریعہ بھی ہے جس کے لیے سرکاری سرپرستی کی ضرورت ہے۔ اتن کے ساتھ ساتھ وردگے، بلبالا، زازی، نڑاولے، گڑندے اتن، ٹوپو اتن، خاناوائی، خٹک اور محسود رقص کی اقسام دہشت گردی اور سوشل میڈیا کی یلغار کا مقابلہ کر رہی ہیں۔ خیبر پختونخوا میوزیم اینڈ آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر بخت زادہ خان نے ان رقصوں کو اجتماعی یادداشت کا خزانہ قرار دیا جو ان حملہ آوروں اور بادشاہوں کے ساتھ مشہور درہ خیبر سے ہوتے ہوئے برصغیر اور وسطی ایشیائی ریاستوں تک گئے ۔ وزیر، محسود اور یوسفزئی سمیت دیگر پختون قبیلوں نے روایتی رقصوں کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا جبکہ چترال اور خیبر پختونخوا کے دیگر حصوں میں بھی ممتاز اشکال برقرار رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی معروف ترین روایتی اشکال میں قومی خٹک رقص شامل ہے جو خٹک قبیلے سے منسلک ہے اور شادیوں، پیدائش، تہواروں اور استقبالیہ تقاریب میں بڑے پیمانے پر پیش کیا جاتا ہے۔بخت زادہ نے کہا کہ یہ رقص کئی اشکال میں پروان چڑھا ہے جن میں براغونی، شاہ دولہ، بھنگڑا، بلبالہ اور چترالی شامل ہیں۔ وفاقی حکومت نے پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) کے تحت کام کرنے والا نیشنل پرفارمنگ آرٹس گروپ (این پی اے جی) تشکیل دیا تاکہ روایتی لوک رقص، موسیقی اور تھیٹر کو قومی اور بین الاقوامی اسٹیجز پر محفوظ اور پیش کیا جا سکے۔اتن محض ایک رقص نہیں ہے بلکہ تاریخ، شناخت، ثقافت اور اجتماعی خوشی کا ایک منفرد شاہکار ہے ۔







