اعتدال پسند علماء کو متحد ہو کر اسلام کے حقیقی پیغام کے فروغ کے لئے کردار ادا کرنا ہوگا،چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل

اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے کہا ہے کہ علماء و مشائخ کی عملی یکجہتی ہی معاشرتی استحکام اور امن کی ضامن ہے،پاکستان میں قرآنِ مجید کے ایک نسخے پر اتفاقِ رائے امت کے اتحاد کی جانب مثبت قدم ہے،موجودہ حالات میں امتِ مسلمہ کو انتشار نہیں بلکہ فکری وحدت کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کو بین الاقوامی …

اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے کہا ہے کہ علماء و مشائخ کی عملی یکجہتی ہی معاشرتی استحکام اور امن کی ضامن ہے،پاکستان میں قرآنِ مجید کے ایک نسخے پر اتفاقِ رائے امت کے اتحاد کی جانب مثبت قدم ہے،موجودہ حالات میں امتِ مسلمہ کو انتشار نہیں بلکہ فکری وحدت کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کو بین الاقوامی علماء و مشائخِ اسلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا کہ جامعہ الکوثر میں علماء و مشائخ کا اجتماع اتحادِ امت کے فروغ میں سنگِ میل ہے،عتبہ حسینیہ کے نمائندگان کی شرکت اس کانفرنس کی عالمی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے،اس نوعیت کے بین المذاہب و بین المسالک اجتماعات ہر سال منعقد ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی قیادت خدمتِ دین اور امت کی بہتری کے لئے مشترکہ جدوجہد جاری رکھے، عتبہ حسینیہ کے نمائندوں کی جانب سے پیش کئے گئے منصوبے امت کے لئے امید کی کرن ہیں ، ملک میں تمام مکاتبِ فکر کے علماء دو طبقات میں منقسم ہیں، ایک اعتدال پسند اور دوسرا شدت پسند گروہ ہے

اعتدال پسند علماء کو متحد ہو کر اسلام کے حقیقی پیغام کے فروغ کے لئے کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ شدت پسند عناصر تعداد میں کم مگر اثر انگیزی میں زیادہ ہیں، ان کا فکری اثر روکنا ضروری ہے، اگر علماء نے مشترکہ لائحہ عمل نہ بنایا تو انتہاپسند طبقہ اعتدال پسندوں کو پیچھے چھوڑ دے گا،پاکستان کے مختلف مسالک کے علماء نے ہمیشہ رواداری اور برداشت کا درس دیا ہے، امتِ مسلمہ کے بڑے مسائل میں غزہ اور مسئلہ کشمیر سرفہرست ہیں،58 مسلم ممالک ہونے کے باوجود امت فلسطینیوں کی عملی مدد کیوں نہیں کر پائی، افسوس ہے کہ غزہ میں امداد پہنچانے کے لئے بھی اسرائیلی اجازت درکار ہے،پاکستان نے غزہ کے مظلوموں کی امداد کے لئے بھرپور کردار ادا کیا، پاکستان کی جانب سے 20 سے زائد مرتبہ سی130 طیاروں کے ذریعے امدادی سامان بھجوایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بین المسالک اور بین المذاہب ہم آہنگی کے بغیر معاشرتی استحکام ممکن نہیں،سیاسی و مذہبی جماعتوں کو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد میں اکٹھا ہونا ہوگا

عام آدمی کے معاشی اور سماجی مسائل پر اجتماعی طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، ایک ایسا غیر سیاسی و غیر مسلکی پلیٹ فارم تشکیل دینا ہوگا جو صرف امت اور انسانیت کے لئے سوچے،اتحاد، رواداری اور اعتدال ہی پاکستان اور امتِ مسلمہ کی بقا کی ضمانت ہیں ۔