افسران پر خفیہ معاہدے اور جھوٹ پکڑنے والے ٹیسٹ لازم ہوں گے، پینٹاگون

واشنگٹن ۔3اکتوبر (اے پی پی):امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون ہزاروں افسران اور ملازمین پر خفیہ معاہدے اور جھوٹ پکڑنے والے ٹیسٹ لازم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ معلومات کے اخراج کو روکا جا سکے۔ یہ انکشاف امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے خفیہ دستاویزات کے حوالے سے کیا ہے۔نائب وزیر دفاع اسٹیو فینبرگ کی جانب سے تیار کردہ مسودے کے مطابق وزارت دفاع اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے دفاتر میں …

واشنگٹن ۔3اکتوبر (اے پی پی):امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون ہزاروں افسران اور ملازمین پر خفیہ معاہدے اور جھوٹ پکڑنے والے ٹیسٹ لازم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ معلومات کے اخراج کو روکا جا سکے۔ یہ انکشاف امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے خفیہ دستاویزات کے حوالے سے کیا ہے۔نائب وزیر دفاع اسٹیو فینبرگ کی جانب سے تیار کردہ مسودے کے مطابق وزارت دفاع اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے دفاتر میں تعینات مسلح افواج کے اہلکار، سول ملازمین اور کنٹریکٹ پر کام کرنے والے عملے سمیت 5 ہزار سے زائد افراد سے عدم انکشاف معاہدے پر دستخط کرائے جائیں گے۔ ان معاہدوں کے تحت کوئی بھی اہلکار "غیر عوامی معلومات” بغیر پیشگی اجازت یا مقررہ طریقہ کار کے افشا نہیں کر سکے گا۔

فینبرگ کی ایک اور دستاویز میں ان افسران پر اچانک جھوٹ پکڑنے والے ٹیسٹ (لائی ڈٹیکٹر) نافذ کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ ان اقدامات کے دائرے میں کن افراد کو شامل کیا جائے گا اس بارے میں کوئی پابندی متعین نہیں کی گئی، جس کا مطلب یہ ہے کہ سب کو شامل کیا جا سکتا ہے۔یہ اقدامات ٹرمپ انتظامیہ اور پینٹاگون کی اس وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد اُن ذمہ داران کو باہر کرنا ہے جو غیر وفادار سمجھے جاتے ہیں یا میڈیا کو معلومات فراہم کرتے ہیں۔پینٹاگون کے ترجمان شون بارنل نے ان منصوبہ بند ہدایات پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا اور ای میل پیغام میں کہا کہ واشنگٹن پوسٹ کی خبر "غلط اور غیر ذمہ دارانہ” ہے۔اس سال کے آغاز میں پینٹاگون کی جانب سے میڈیا کو معلومات لیک کرنے والے اہلکاروں کی نشاندہی کے لیے جھوٹ پکڑنے والے آلات کے استعمال نے وائٹ ہاؤس میں بھی تشویش پیدا کی تھی۔

پینٹاگان کے مجوزہ عدم انکشاف معاہدے میں ملازمین کو کسی بھی غیر عوامی معلومات کے افشا سے روکا گیا ہے "جب تک کہ پیشگی اجازت یا سرکاری طریقہ کار اختیار نہ کیا جائے”۔ یہ شرط ان ضوابط سے ملتی جلتی ہے جو وزارتِ دفاع اس وقت صحافیوں پر عائد کرتی ہے تاکہ وہ پینٹاگون میں اپنی صحافتی اسناد برقرار رکھ سکیں۔یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وزیر ہگسیتھ کئی دیگر پالیسیاں بھی متعارف کروا رہے ہیں جن میں فوج کے آزاد انسپکٹرز اور مساوی مواقع کے دفاتر پر نئی پابندیاں عائد کرنا شامل ہیں۔

ان اقدامات سے فوجی یا دفاعی اہلکاروں کے لیے شکایات رپورٹ کرنے کے راستے محدود ہو سکتے ہیں اور انہیں باضابطہ کمانڈ چین کے ذریعے ہی آگے بڑھانا پڑے گا۔فینبرگ نے اپنی پالیسی میمورنڈم میں لکھاکہ حساس معلومات کا تحفظ ہمارے قومی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس سے نہ صرف ہمارے فوجیوں کی سلامتی یقینی بنتی ہے بلکہ یہ بھی ممکن ہوتا ہے کہ ہمارے اعلیٰ کمانڈرز فیصلہ کن اقدامات کر سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس معاہدے کی خلاف ورزی پر پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں جن میں فوجی عدالتی کارروائی بھی شامل ہے۔

 

مزید خبریں