افغانستان میں کھانے پینے کی اشیا کا ذخیرہ رواں ماہ خ کے اختتام تک ختم ہو سکتا ہے ، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ۔2ستمبر (اے پی پی):افغانستان میں اقوام متحدہ کے نائب خصوصی نمائندہ اور ہیومینیٹیریئن کوآرڈینیٹر رمیز الاکبروف نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں اقوام متحدہ کے کھانے پینے کی اشیا کا ذخیرہرواں ماہ ختم ہو سکتا ہے لہذا انتہائی کمزور افراد کو کھانے پینے کی اشیا کی فراہمی کے لیے20 کروڑ ڈالرز کی فوری ضرروت ہے۔ انہوں نے افغانستان سے بذریعہ وڈیو لنک نیویارک کے نمائندوں سے گفتگو کرتے …

اقوام متحدہ۔2ستمبر (اے پی پی):افغانستان میں اقوام متحدہ کے نائب خصوصی نمائندہ اور ہیومینیٹیریئن کوآرڈینیٹر رمیز الاکبروف نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں اقوام متحدہ کے کھانے پینے کی اشیا کا ذخیرہرواں ماہ ختم ہو سکتا ہے لہذا انتہائی کمزور افراد کو کھانے پینے کی اشیا کی فراہمی کے لیے20 کروڑ ڈالرز کی فوری ضرروت ہے۔

انہوں نے افغانستان سے بذریعہ وڈیو لنک نیویارک کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں مزید اشیا کی فراہمی کے لیے بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں اورپاکستان اس سنگین صورتحال میں بھرپور تعاون اور مدد کر رہا ہے اور یہ کہ اسلام آبادافغانستان میں اقوام متحدہ کے انسانی امداد کی فراہمی کے مشن کا مرکز بن گیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے اسلام آباد سے زمینی راستے کے ذریعے 600 میٹرک ٹن کھانے کی اشیا افغانستان پہنچائیں جس پر ہم پاکستان کے شکرگزار ہیں جبکہ پاکستان ایئر لائن (پی آئی اے )نے افغانستان میں ضرورت مند افراد کو ادویات فراہم کرنا شروع کر دی ہیں اور افغانستان کے شہر مزار شریف میں لینڈ کرنے والی یہ پہلی پرواز ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت افغانستان یہ صورتحال ہے کہ ایک تہائی آبادی کو یہ بھی یقین نہیں ہے کہ انہیں روزانہ کھانا ملے گا یا نہیں اور اقوام متحدہ کے ادارہ ورلڈ فوڈ پروگرام کے پاس رواں ماہ کے اختتام تک کھانے پینے کی اشیا کاذخیرہ موجود ہے جس کے بعد یہ ختم ہو سکتا ہے اور ہم لوگوں کو کھانے پینے کی بنیادی اشیا فراہم نہیں کر سکیں گے جبکہ 5 سال تک کے نصف سے زیادہ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور ایک تہائی سے زیادہ شہریوں کو کھانے کے لیے کافی نہیں مل رہا ہے لہذا ہمیں انتہائی کمزور افراد یعنی بچوں کو کھانے پینے کی اشیا فراہم کرنے کے لیے 20 کروڑ ڈالرز کی فوری اشد ضرروت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی 2 بڑے رکن ممالک نے افغانستان کو مالی مدد فراہم کرنے کا عندیہ دیا ہے جواب بھی ناکافی ہے اس سلسلے میں ہمیں بین الاقوامی برادری کی طرف سے وسیع پیمانے پر کوششوں اور شمولیت کی ضرورت ہے۔