وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہماری بہادر مسلح افواج اور غیور شہریوں نے ان دہشت گردوں کا مقابلہ کیا اور بے مثال قربانیاں دیں اس لئے دنیا آج زیادہ محفوظ ہے، بیرونی مالی معاونت سے چلنے والے گروہ افغانستان کے اندر موجود محفوظ پناہ گاہوں سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے مقصد سے کارروائیاں کرتے ہیں
افغانستان کے اندر موجود محفوظ پناہ گاہوں سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے مقصد سے کارروائیوں کا فوری اور مکمل خاتمہ ہونا چاہئے، وزیراعظم شہباز شریف

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔26ستمبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہماری بہادر مسلح افواج اور غیور شہریوں نے ان دہشت گردوں کا مقابلہ کیا اور بے مثال قربانیاں دیں اس لئے دنیا آج زیادہ محفوظ ہے، بیرونی مالی معاونت سے چلنے والے گروہ افغانستان کے اندر موجود محفوظ پناہ گاہوں سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے مقصد سے کارروائیاں کرتے ہیں،اس صورتحال کا فوری اور مکمل خاتمہ ہونا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں عمومی مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے بدستور سنگین ترین خطرات میں سے ایک ہے، دہشت گردی کے خلاف ایک صفِ اول کے ملک کی حیثیت سے ہم نے اپنے ہی شہروں، اپنے ہی پہاڑوں اور اپنی سرحدوں پر دہشت گردوں کا مقابلہ کیا ہے،پاکستان نے تقریباً ایک لاکھ قیمتی جانوں کی قربانی دی ہے اور 150 ارب ڈالر سے زیادہ کے معاشی نقصانات برداشت کئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج دنیا زیادہ محفوظ ہے کیونکہ ہماری بہادر مسلح افواج اور غیور شہریوں نے ان دہشت گردوں کا مقابلہ کیا اور بے مثال قربانیاں دیں، امن پسند دنیا کو اس حقیقت کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہئے۔وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین بدستور تحریک طالبان پاکستان، فتنۃ الخوارج اور بی ایل اے، فتنۃ الہندستان کے زیرِ استعمال ہے،یہ بیرونی مالی معاونت سے چلنے والے گروہ افغانستان کے اندر موجود محفوظ پناہ گاہوں سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے مقصد سے کارروائیاں کرتے ہیں،اس صورتحال کا فوری اور مکمل خاتمہ ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ افغان حکام کو اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں اور قابلِ تصدیق اور فیصلہ کن اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ افغان سرزمین دوبارہ کبھی پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو،افغان عوام کے بنیادی حقوق خصوصاً خواتین اور بچیوں کے حقوق کا ہر حال میں ا حترام کیا جانا چاہئے







