اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے "امن دستوں کے خلاف جرائم پر جوابدہی” سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔ یہ اقدام پاکستان اور ڈنمارک کی مشترکہ قیادت میں پیش کیا گیا، جو سلامتی کونسل میں امن مشنز سے متعلق امور کے لیے "پیس کیپنگ ڈو” (Peacekeeping Duo) کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے "امن دستوں کے خلاف جرائم پر جوابدہی” سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی

مزید خبریں
اسلام آباد۔24جون (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے "امن دستوں کے خلاف جرائم پر جوابدہی” سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔ یہ اقدام پاکستان اور ڈنمارک کی مشترکہ قیادت میں پیش کیا گیا، جو سلامتی کونسل میں امن مشنز سے متعلق امور کے لیے "پیس کیپنگ ڈو” (Peacekeeping Duo) کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق اس قرارداد کی مشترکہ سرپرستی 153 رکن ممالک نے کی، جو اقوامِ متحدہ کے امن مشنز اور اقوامِ متحدہ کے پرچم تلے خدمات انجام دینے والے مرد و خواتین اہلکاروں کے تحفظ کے لیے عالمی برادری کی مضبوط حمایت کا مظہر ہے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں اس اقدام کو متعارف کراتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یہ قرارداد ایک واضح پیغام دیتی ہے کہ اقوامِ متحدہ کے پرچم تلے خدمات انجام دینے والوں کو سلامتی کونسل کی مکمل حمایت حاصل ہوگی، اور ان پر حملوں کو خاموشی یا استثنیٰ کے ساتھ برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ قرارداد اس امر کی توثیق کرتی ہے کہ اقوامِ متحدہ کے امن دستوں پر حملے ناقابلِ قبول ہیں، بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں، اور ان کے خلاف مؤثر تحقیقات، قانونی کارروائی اور جوابدہی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ اس قرارداد کی منظوری امن دستوں کے خلاف جرائم پر موجودہ احتسابی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹریٹ میں ایک سینئر فوکل کے تقرر کا اقدام بھی شامل ہے۔
پاکستان اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں فوجی دستے فراہم کرنے والے سب سے بڑے اور طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والے ممالک میں شامل ہے۔ اس قرارداد کی منظوری اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کے حوالے سے پاکستان کی دیرینہ قیادت اور مسلسل عزم کی عکاس ہے۔ پاکستان نہ صرف امن مشنز میں اپنے اہلکاروں کے ذریعے نمایاں کردار ادا کرتا رہا ہے بلکہ فعال سفارت کاری اور پالیسی مباحث میں مؤثر شرکت کے ذریعے امن کارروائیوں کی سلامتی، مؤثریت اور ساکھ کو مضبوط بنانے کے لیے بھی سرگرم کردار ادا کرتا رہا ہے۔








