سینئر سماجی رہنما اور صدر ینگ پاکستانیز آرگنائزیشن نعیم اقبال نعیم نے حکومتِ پاکستان اور حکومتِ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ تعلیمی اداروں، خصوصاً اسکولوں اور کالجوں میں فاسٹ فوڈز، کولڈ ڈرنکس اور مٹھائیوں کی فروخت اور استعمال پر مو ثر پابندی عائد کی جائے تاکہ بچوں اور نوجوانوں کو مختلف خطرناک بیماریوں سے محفوظ بنایا جا سکے
تعلیمی اداروں میں فاسٹ فوڈز اور مٹھائیوں کی فروخت پر پابندی عائد کی جائے تاکہ بچوں کو مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھا جاسکے،نعیم اقبال

مزید خبریں
ملتان۔ 24 جون (اے پی پی):سینئر سماجی رہنما اور صدر ینگ پاکستانیز آرگنائزیشن نعیم اقبال نعیم نے حکومتِ پاکستان اور حکومتِ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ تعلیمی اداروں، خصوصاً اسکولوں اور کالجوں میں فاسٹ فوڈز، کولڈ ڈرنکس اور مٹھائیوں کی فروخت اور استعمال پر مو ثر پابندی عائد کی جائے تاکہ بچوں اور نوجوانوں کو مختلف خطرناک بیماریوں سے محفوظ بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا نے بچوں میں شوگر، موٹاپے اور دیگر بیماریوں میں اضافے کے پیشِ نظر اسکولوں میں فاسٹ فوڈز اور مٹھائیوں پر پابندی عائد کر دی ہے جوایک قابلِ تقلیداقدام ہے، پاکستان میں بھی غیر صحت بخش غذاؤں کےبڑھتےہوئےاستعمال کے باعث بچوں اور نوجوانوں میں دل کے امراض، ذیا بیطس، ہائی بلڈ پریشر، موٹاپا اور دیگر صحت کے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ نعیم اقبال نعیم نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں صحت بخش غذا کے فروغ کے لیے جامع پالیسی مرتب کی جائے اور کینٹینوں میں غذائیت سے بھرپور اشیائے خورونوش کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے والدین، اساتذہ اور متعلقہ اداروں پر بھی زور دیا کہ وہ نئی نسل میں صحت مند طرزِ زندگی اور متوازن غذا کے استعمال کے حوالے سے شعور اجاگر کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں این سی سی (National Cadet Corps) طرز کی تربیتی سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز کرے، جوماضی میں طلبہ کی جسمانی، ذہنی اور اخلاقی تربیت کا ایک مو ثر ذریعہ ہوا کرتی تھیں۔ بدقسمتی سے ان سرگر میوں کے بند ہونے سے نوجوانوں کو صحت مند اور مثبت سرگرمیوں کے مواقع کم ہو گئے ہیں۔ این سی سی جیسی تربیت نوجوانوں میں نظم و ضبط، حب الوطنی، قائدانہ صلاحیتوں اور جسمانی فٹنس کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کھیلوں، جسمانی تربیت اور مثبت ہم نصابی سرگرمیوں کےفروغ سے نوجوان نسل کو منشیات، غیر صحت بخش عادات اور دیگر سماجی برائیوں سے دور رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
نوجوان نسل ملک کا مستقبل ہے، اس لیے ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کا تحفظ قومی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ حکومت فوری طور پر اس حوالے سے عملی اقد امات کرے تاکہ صحت مند، متحرک اور باصلاحیت معا شرے کی تشکیل ممکن ہو سکے۔







