پاکستان نے افریقہ بھر میں بڑھتے ہوئے تنازعات اور عدم تحفظ کی صورتحال میں اقوام متحدہ اور افریقی یونین پر زور دیا کہ براعظم میں امن کے فروغ کے لیے بحرانوں پر صرف ردِعمل دینے کی بجائے تنازعات کی روک تھام پر توجہ مرکوز کی جائے۔
اقوام متحدہ اور افریقی یونین کو افریقہ کے بحرانوں کے روک تھام پر توجہ دینی چاہیے، پاکستان

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔7اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے افریقہ بھر میں بڑھتے ہوئے تنازعات اور عدم تحفظ کی صورتحال میں اقوام متحدہ اور افریقی یونین پر زور دیا کہ براعظم میں امن کے فروغ کے لیے بحرانوں پر صرف ردِعمل دینے کی بجائے تنازعات کی روک تھام پر توجہ مرکوز کی جائے۔
یہ بات گزشتہ روز اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل نمائندہ عثمان جدون نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں دونوں اداروں کے درمیان تعاون کا جائزہ لیا گیا۔ یہ اجلاس یونان کی درخواست پر منعقد ہوا، جو اکتوبر کے لیے 15 رکنی سلامتی کونسل کی صدارت کر رہا ہے۔ سلامتی کونسل کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ اقوام متحدہ اور افریقی یونین کی شراکت داری میں تنازعات کی روک تھام، ثالثی، امن مشنز، قیامِ امن اور انسدادِ دہشت گردی سمیت امن کے پورے تسلسل کا احاطہ ہونا چاہیے ۔ قرنِ افریقہ بدستور انتہائی نازک صورتحال سے دوچار ہے، جہاں تباہ کن تنازعات، شناخت کی بنیاد پر خطرناک کشیدگی اور بیرونی عوامل کے اثرات موجود ہیں۔
گریٹ لیکس خطے میں افریقی یونین، مشرقی افریقی برادری (EAC)، جنوبی افریقی ترقیاتی برادری (SADC)، امریکا اور قطر کی کوششوں کو کمزور عمل درآمد، جاری لڑائی اور علاقائی کشیدگی کا سامنا ہے۔ دریں اثنا، ساحل خطے میں بھی عدم تحفظ برقرار ہے، جہاں پرتشدد انتہا پسندی، کمزور حکمرانی، سیاسی منتقلی میں تاخیر، نقل مکانی، غذائی عدم تحفظ اور موسمیاتی دبائو ایک دوسرے سے جڑے سیاسی، سکیورٹی اور انسانی بحرانوں کو جنم دے رہے ہیں۔ پاکستانی مندوب عثمان جدون نے کہا کہ اب چیلنج یہ ہے کہ اقوام متحدہ اور افریقی یونین کے درمیان گہرے تعاون کو زیادہ سیاسی ہم آہنگی اور زمینی سطح پر ٹھوس نتائج میں تبدیل کیا جائے کیونکہ افریقہ میں امن و سلامتی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنازعات زیادہ طویل ہو رہے ہیں، دہشت گردی پھیل رہی ہے، بیرونی مداخلت میں اضافہ ہو رہا ہے اور متعدد ثالثی کے عمل ہمیشہ پائیدار نتائج پیدا نہیں کر رہے۔
انہوں نے کہاکہ یہ رجحانات ایسے اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں جو علاقائی حقائق پر مبنی ہوں، متعلقہ ممالک کا اعتماد حاصل کریں اور افریقی اداروں کی مکمل شرکت اور قیادت کے ساتھ تشکیل دیئے جائیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افریقی ملکیت اور قیادت کو مرکزی حیثیت حاصل رہنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سوڈان اور جمہوریہ کانگو میں جاری مختلف سفارتی عمل کو ایک دوسرے کی کوششوں میں معاون ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ افریقی یونین، اقوام متحدہ اور متعلقہ ذیلی علاقائی تنظیموں کو مربوط سیاسی حکمتِ عملی کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے، جس میں عمل درآمد اور بعد ازاں نگرانی کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2719 (2023) پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔ اس قرارداد کے تحت افریقی یونین کی قیادت میں چلنے والے امن معاون مشنز کے لیے اقوام متحدہ کے باقاعدہ مالی تعاون کے ذریعے قابلِ اعتماد، پائیدار اور لچکدار فنڈنگ (flexible funding ) کا فریم ورک قائم کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشترکہ منصوبہ بندی، مشن کی معاونت، مالی اعانت، ضابطوں کی پابندی اور شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے نمایاں تکنیکی پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اب جس چیز کی ضرورت ہے، وہ عمل درآمد کے لیے سیاسی عزم ہے۔صومالیہ کے بارے میں پاکستانی نمائندہ عثمان جدون نے کہا کہ افریقی یونین سپورٹ اینڈ سٹیبلائزیشن مشن (AUSSOM) ملک کی سکیورٹی منتقلی کے لیے بدستور اہم ہے، تاہم آپریشنل اور مالی مشکلات اس کی موثریت کو متاثر کر رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مشن کے موثر طریقے سے کام کرنے کے لیے وسیع عالمی برادری کی جانب سے حقیقی ذمہ داری میں شراکت ناگزیر ہے۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان کا موقف ہے کہ ترجیح واضح ہونی چاہیے، فریم ورک سے عمل درآمد کی طرف بڑھا جائے اور افریقی ملکیت کے اعلانات سے اس کی عملی تکمیل کی طرف پیش رفت کی جائے۔







