امریکی حزب اختلاف کی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر کرس مرفی نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے دورے کے دوران پینٹاگون نے انہیں قطر میں واقع ایک اہم امریکی فوجی اڈے کے دورے سے روک دیا ، انہوں نے امریکی صدر کی انتظامیہ پر ایران کے خلاف جنگ کے اخراجات اور اس کے مضمرات چھپانے کا الزام بھی عائد کیا۔
امریکی سینیٹر کرس مرفی کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر ایران جنگ کے اخراجات چھپانے کا الزام

مزید خبریں
ریاض۔7اکتوبر (اے پی پی):امریکی حزب اختلاف کی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر کرس مرفی نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے دورے کے دوران پینٹاگون نے انہیں قطر میں واقع ایک اہم امریکی فوجی اڈے کے دورے سے روک دیا ، انہوں نے امریکی صدر کی انتظامیہ پر ایران کے خلاف جنگ کے اخراجات اور اس کے مضمرات چھپانے کا الزام بھی عائد کیا۔
شنہوا کے مطابق قطر اور سعودی عرب کے دورے پر آئے امریکی کانگریس کے وفد کے سفر کے دوسرے مرحلے کے دوران سعودی دارالحکومت ریاض میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر کرس مرفی نے بتایا کہ انہیں العدید ایئر بیس کے دورے کی اجازت نہیں دی گئی۔انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ کانگریس اور امریکی عوام سے اس جنگ کے اخراجات اور اس کے مضمرات کو چھپانے کی ایک فعال، بے مثال اور غیر آئینی کوشش جاری ہے۔العدیدایئر بیس خطے میں امریکا کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے اور فروری کے اواخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران کی جانب سے اس پر متعدد بار حملے کیے جا چکے ہیں۔
امریکی کانگریس کے دیگر کئی ارکان نے بھی گزشتہ سات ماہ سے زیادہ عرصہ سے جاری اس جنگ کے اخراجات، حکمتِ عملی اور جانی نقصانات کے حوالے سے شفافیت نہ برتنے پر پینٹاگون کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔اس معاملے پر تبصرے کے لیے رابطہ کرنے پر پینٹاگون کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ دورے سے قبل ہی سینیٹر کرس مرفی کے دفتر کو مطلع کر دیا گیا تھا کہ انہیں اس اڈے تک رسائی کے لیے محکمے کا تعاون حاصل نہیں ہو سکے گا، یہ فیصلہ وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی جانب سے مارچ میں جاری کردہ اس ہدایت کے عین مطابق تھا جس میں خطے کے سفر کو محدود کیا گیا تھا۔







