مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کا اے ایف پی کے فوٹوگرافر پر تشدد

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں نے زیتون کے پھل اتارنے کے سیزن کے آغاز کے ساتھ اپنے حملوں میں تیزی لاتے ہوئے ان حملوں کی کوریج کے دوران فرانسیسی خبر رساں ادارے’’اے ایف پی‘‘کے ایک فوٹوگرافر کو تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کی اور ان کے ایک ساتھی پر فائرنگ کی۔

مقبوضہ بیت المقدس۔7اکتوبر (اے پی پی):مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں نے زیتون کے پھل اتارنے کے سیزن کے آغاز کے ساتھ اپنے حملوں میں تیزی لاتے ہوئے ان حملوں کی کوریج کے دوران فرانسیسی خبر رساں ادارے ’’اے ایف پی‘‘ کے ایک فوٹوگرافر کو تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کی اور ان کے ایک ساتھی پر فائرنگ کی۔

العربیہ اردو کے مطابق عین شاہدین، ان کے خاندان کے افراد اور صحافی ساتھیوں کے مطابق50 سالہ جعفر اشتیہ جو مقبوضہ علاقوں میں اے ایف پی کے لیے کام کرنے والے ایک تجربہ کار فوٹوگرافر ہیں کے سر اور جسم پر چوٹیں آئیں اور انہیں ہلال احمر فلسطین کی ایمبولینس کے ذریعے نابلس کے ایک ہسپتال میں منتقل کیا گیا۔ جعفر اشتیہ اور اے ایف پی‘کے ایک اور فوٹوگرافر جان ویسلز شمالی مغربی کنارے میں عقربا قصبے کے قریب تھے جب انہوں نے ایک اسرائیلی فوجی کو ایک شخص کو حراست میں لیتے ہوئے دیکھا جبکہ قصبے کے فلسطینی رہائشی زیتون توڑ رہے تھے۔ اس دوران اچانک ایک کواڈ بائیک اے ایف پی کے صحافیوں کی طرف آئی اور اس پر سوار افراد میں سے ایک نے فائرنگ کر دی جبکہ ایک فلسطینی زمین پر گر گیا۔

ہلال احمر فلسطین کے مطابق پائوں پر گولی لگنے کے بعد زخمی شخص کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اس کے بعد6 افراد فائرنگ کرتے ہوئے اے ایف پی کے صحافیوں کی طرف دوڑ کر آئے اور جعفر اشتیہ نے گاڑی میں داخل ہونے کی کوشش کی تو دو افراد نے ان پر حملہ کر دیا اور اپنے ہتھیاروں سے انہیں مارا۔ جان ویسلز جنہیں خود بھی ہتھیار سے دھمکی دی گئی تھی نے کہا کہ میں ان کی چیخیں سن سکتا تھا۔ حملہ آوروں نے جعفراشتیہ کا کیمرہ اوردیگر سامان بھی چھین لیا۔ جان ویسلز نے اشارہ کیا کہ پہلے فائرنگ کرنے والا شخص ایک لمبی سفید قمیض، پتلون اور فوجی جوتے پہنے ہوئے تھا جو عام طور پر فوجی پہنتے ہیں۔

جعفر اشتیہ کے بیٹے زین جعفر نے واضح کیا کہ ان کے والد ہوش میں ہیں اور نابلس شہر کے ایک ہسپتال میں طبی نگرانی میں ہیں جہاں ان کا ایکسرے کیا جائے گا۔ اے ایف پی کے نیوز ڈائریکٹر فل شیٹوئند نے کہا کہ ہم مغربی کنارے میں رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں پر ایک اور خطرناک حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مسلح آباد کاروں کی طرف سے صحافیوں پر حملے کیے جاتے ہیں اور انہیں لوٹا جاتا ہے اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے اہلکار تماشا دیکھتے رہتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف آباد کاروں کے تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔

آباد کار فلسطینیوں پر روزانہ حملے کرتے ہیں جن میں جسمانی تشدد، زمینوں اور فصلوں کی چوری ،عبادت گاہوں، گھروں اور تنصیبات کی توڑ پھوڑ شامل ہے۔ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ آباد کاروں نے اسرائیلی فوج کی مدد سے ان کے کھیتوں سے زیتون توڑے اور انہیں چرا کر لے گئے ۔ صحافیوں کے حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ آباد کار بڑھتی ہوئی تعداد میں نامہ نگاروں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور حکام نے میڈیا کوریج پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ پیرس میں قائم تنظیم رپورٹرز ود آئوٹ بارڈرز کے مطابق اسرائیلی حکام نے 7 اکتوبر 2023 بعد تین سال کے دوران مغربی کنارے میں19صحافیوں کو حراست میں لیا جن میں اے ایف پی کا ایک صحافی بھی شامل ہے۔

مزید خبریں