اسلام آباد ۔ 05مئی(اے پی پی)لاہور لٹریری فیسٹیول (ایل ایل ایف ) کا چوتھا ایڈیشن نیویارک میں ختم ہوگیا ہے، اس دوران پاکستان کے آرٹ اور لٹریچر کے ماہرین نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفیر ملیحہ لودھی سیتبادلہ خیال کیا ، سفیر کا کہنا تھا کہ یہ سالانہ تقریب حالیہ برسوں کے دوران ملک میں ثقافتی بحالی کا اظہار ہے، پاکستان کے ثقافتی لینڈ سکیپ میں آرٹ، موسیقی، لٹریچر …
اقوام متحدہ میں پاکستان کی مندوب ملیحہ لودھی کا نیویارک میںایل ایل ایف کے ایشیا سوسائٹی کے اشتراک سے منعقدہ فیسٹیول کے شرکاء سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 05مئی(اے پی پی)لاہور لٹریری فیسٹیول (ایل ایل ایف ) کا چوتھا ایڈیشن نیویارک میں ختم ہوگیا ہے، اس دوران پاکستان کے آرٹ اور لٹریچر کے ماہرین نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفیر ملیحہ لودھی سیتبادلہ خیال کیا ، سفیر کا کہنا تھا کہ یہ سالانہ تقریب حالیہ برسوں کے دوران ملک میں ثقافتی بحالی کا اظہار ہے، پاکستان کے ثقافتی لینڈ سکیپ میں آرٹ، موسیقی، لٹریچر اور سینما میں بڑے پیمانے پر تخلیقی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے نیویارک میں ایشیا سوسائٹی کے وسیع ہال میں بڑی تعداد میں موجود فیسٹیول کے شرکاء سے خطاب کے دوران کیا،یہ میلہ ایشیاء سوسائٹی کے اشتراک سے منعقد کیا گیا تھا۔مقررین کی بڑی تعداد نے کہا کہ لاہور کو پاکستان کا ثقافتی مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایل ایل ایف اس حوالے سے جدید آئڈیاز سامنے لائی ہے اور اس نے پاکستانی ٹیلنٹ کو امریکی شرکاء کے سامنے پیش کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ فیسٹیول کے دوران ثقافتی زندگی کا عکس پیش کیا گیا ہے۔ملیحہ لودھی نے کہا کہ ایل ایل ایف کا شاندار سفر پاکستان کی غیر معمولی دانشورانہ توانائی کا عکاس ہے جو کہ تخلیقی آوزاوں کے فیوژن میں واضح ہے، یہ تخلیقی آوازیں ایک زندہ قوم کا اظہار، نئی پاکستانی جنریشن کے اعتماد کا اظہار اور اس کے ورثے کا فخر ہے جو عالمی ورثے سے جڑا ہے۔ملیحہ لودھی نے کہا کہ آرٹ اور لٹریچر ایسے شعبے ہیں جنھیں اکثر سراہا گیا ہے اور یہ بھی تبدیلی کا ذریعہ ہیں، یہ ہماری سوچ کو تبدیل کرتے ہیں، ہمارے تبدیل ہوتے ماحول کا جائزہ لیتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان سے علیحدگی کی دیواروں کے بجائے مفاہمت کے پل تعمیر ہوتے ہیں۔ایل ایل ایف کے سی ای او رازی احمد نے کہا کہ ایل ایل ایف نے ایشیا سوسائٹی کے تعاون سے نیویارک میں پاکستانی ٹیلنٹ اور اظہار کا خزانہ پیش کیا ہے۔انھوں ٹیم ممبرز بالخصوص انیلہ شاہ اور نصرت رحمان کی کاوشوں پر ان کا شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر ایشیا سوسائٹی کے گلوبل پرفارمنگ آرٹ کے و کلچر کے ڈائریکٹر ریکل کوپر نے اراکین اور سامعین کو فیسٹیول میں شرکت پر خوش آمدید کہا۔








