اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم کا بھارتی فوج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے محاصرے کا ایک سال پورا ہونے پر مباحثہ سے خطاب

نیویارک ۔ 5 اگست (اے پی پی) اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا ہے کہ پاکستان کشمیریوں کے حق خودارادیت کی جائز اور منصفانہ جدوجہد کی حمایت جاری رکھے گا۔ بھارتی فوج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے محاصرہ کا ایک سال پورا ہونے پر یہاں ایک مباحثہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے کشمیریوں کی ثابت قدمی سے حمایت کی …

نیویارک ۔ 5 اگست (اے پی پی) اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا ہے کہ پاکستان کشمیریوں کے حق خودارادیت کی جائز اور منصفانہ جدوجہد کی حمایت جاری رکھے گا۔ بھارتی فوج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے محاصرہ کا ایک سال پورا ہونے پر یہاں ایک مباحثہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے کشمیریوں کی ثابت قدمی سے حمایت کی اور آئندہ بھی ان کی حمایت جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قابض بھارتی افواج کی جانب سے بدترین مظالم ڈھائے جانے کے باوجود کشمیریوں کی مزاحمت میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل‘ ہزاروں نوجوانوں اور سیاسی قیدیوں کو بھارتی جیلوں میں قید کرنے اور انہیں اجتماعی سزائیں دیئے جانے کے باوجود کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں کمی نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں تاریخی انصاف ہوگا۔ واشنگٹن میں کشمیریوں کے آگاہی فورم کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر غلام نبی فائی نے آن لائن مباحثہ میں میزبانی کے فرائض سرانجام دیئے جس میں فیس بک اور ٹویٹر کے ذریعے ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ دیگر مقررین میں آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردا مسعود خان‘ تحریک حریت سے کنوینئر غلام محمد صفی‘ اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ کی کونسل آف سوشل جسٹس کے چیئرمین ڈاکٹر زاہد بخاری، برطانوی مصنفہ وکٹوریا شیفلڈ‘ فلسطینی سیاسی کارکن سمیع ال ابرین‘ ملائیشیا کے سینیٹر محمد نور منولی اور آزاد انسانی حقوق کمیشن جدہ کے عہدیدار آداما نانا نے شرکت کی۔ اپنے خطاب میں منیر اکرم نے کہا کہ پاکستان دنیا بھر کی حکومتوں کو کشمیریوں کے حقوق سے آگاہ کرنے کے لئے بڑی کوشش کر رہا ہے اور کشمیر کاز پر ان کی بھرپور حمایت کے حصول کے لئے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں پاکستان نے سلامتی کونسل کو دو دستاویزات بھیجی ہیں جن میں تنازعہ کشمیر کی قانونی حیثیت اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے۔ یہ دستاویزات سلامتی کونسل کی سرکاری دستاویزات کے طور پر پیش کی جائیں گی اور اس کے ریکارڈکا حصہ ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر اب عالمی مسئلہ بن گیا ہے جو گزشتہ 50 سالوں سے سرد خانہ میں تھا۔ پاکستان نے 40 سال بعد گزشتہ برس 16 اگست کو تنازعہ کشمیر سلامتی کونسل میں اٹھایا۔ منیر اکرم نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان گزشتہ سال ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں آئے اور انہوں نے کشمیریوں کی جانب سے خطاب کیا۔ ہم نے انسانی حقوق کی کونسل میں بھی یہ مسئلہ پیش کیاجس نے ایک مشترکہ بیان کی منظوری دی اور پچاس سے زائد ممالک نے کشمیر کاز کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی مظالم کے خلاف کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ممالک تین وجوہات کی بناءپر کشمیریوں کے لئے آواز نہیں اٹھا رہے جن میں جغرافیائی سیاست‘ معیشت اور چھوٹے ممالک پر بھارتی اثر و رسوخ شامل ہے ہمیں اس رجحان کو تبدیل کرنا پڑے گا اور یہ تبدیلی بھارتی مظالم کے خلاف کشمیریوں کی جدوجہد کی قوت سے آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے غیر قانونی اقدامات سے ہونے والے نقصانات سے بھی یہ تبدیلی آئے گی جو اس کی اپنی معیشت اور سٹریٹجک مفادات کے لئے بھی نقصان دہ ہوگا اور اس کی اپنی ساکھ ختم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی سالوں سے طاقت کا توازن کشمیریوں کے حق میں ہے۔ کشمیریوں کی جدوجہد نے زور پکڑا ہے۔ پاکستان کشمیری عوام کی حمایت میں ثابت قدم ہے اور مودی حکومت کی داخلی اور عالمی سطح پر بدانتظامی سے بھارت کے لئے سرمایہ کاری میں کمی آئے گی۔ منیر اکرم نے کہا کہ دنیا کی تاریخ میں منصفانہ جدوجہد آزادی نے ہمیشہ کامیابی حاصل کی۔