اقوام متحدہ کے سیکرٹر ی جنرل انتونیو گوتریش نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ2030 کے پائیدار ترقیاتی ایجنڈا (SDGs) پر عمل درآمد کی رفتار اور دائرہ کار میں تیزی لائے تاکہ عالمی ترقی کے اہداف بروقت حاصل کیے جا سکیں۔
اقوام متحدہ کا 2030 کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کی رفتار تیز کرنے پر زور
مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔14جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹر ی جنرل انتونیو گوتریش نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ2030 کے پائیدار ترقیاتی ایجنڈا (SDGs) پر عمل درآمد کی رفتار اور دائرہ کار میں تیزی لائے تاکہ عالمی ترقی کے اہداف بروقت حاصل کیے جا سکیں۔شنہوا کے مطابق پائیدار ترقی سے متعلق اعلیٰ سطحی سیاسی فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گوتریس نے کہا کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران بچوں اور ماؤں کی اموات میں کمی، سماجی تحفظ، صاف پانی، نکاسی آب، بجلی اور انٹرنیٹ تک رسائی میں بہتری، کم عمری کی شادی جیسے نقصان دہ رجحانات میں کمی اور قابلِ تجدید توانائی کے استعمال میں نمایاں اضافہ جیسے اہم نتائج حاصل ہوئے ہیں۔
تاہم انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں مسلح تنازعات، بڑھتی ہوئی عدم مساوات، موسمیاتی تبدیلی، مالی مشکلات اور مشرق وسطیٰ کے تنازع نے ترقی کے سفر کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق ان عوامل کے باعث ایندھن، کھاد اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ عالمی تجارت، نقل و حمل اور سیاحت بھی متاثر ہوئی۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار ترقیاتی اہداف مسلسل دور ہوتے جا رہے ہیں اور قابلِ جائزہ 139 اہداف میں سے صرف 36 فیصد درست سمت میں پیش رفت کر رہے ہیں، جبکہ 15 فیصد اہداف میں صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو غربت کے خاتمے، باوقار روزگار، صنفی مساوات، جدید ٹیکنالوجی تک رسائی، انسانی حقوق کے تحفظ، موسمیاتی اقدامات، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور قابلِ تجدید توانائی کی جانب منصفانہ منتقلی کے لیے سرمایہ کاری میں اضافہ کرنا ہوگا۔
اقوام متحدہ کے سربراہ نے بتایا کہ اس سال فورم میں پانچ اہم پائیدار ترقیاتی اہداف پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جن میں صاف پانی اور نکاسی آب، سستی اور صاف توانائی، صنعت، جدت اور بنیادی ڈھانچہ، پائیدار شہر اور کمیونٹیز، اور عالمی شراکت داری شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ کروڑوں افراد کو صاف پانی اور نکاسی آب کی سہولیات میسر آئی ہیں، تاہم اب بھی تقریباً 2.2 ارب افراد محفوظ پینے کے پانی اور 3.5 ارب افراد محفوظ نکاسی آب کی سہولت سے محروم ہیں۔انتو نیو گو تریش نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت اور دیگر ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز ترقی، روزگار کے مواقع اور عوامی خدمات کی بہتری میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، تاہم ضروری ہے کہ ان ٹیکنالوجیز تک سب کی مساوی رسائی یقینی بنائی جائے تاکہ ٹیکنالوجی انسانیت کی خدمت کرے، نہ کہ انسان ٹیکنالوجی کا تابع بن جائے۔انہوں نے عالمی رہنماؤں سے رہائشی بحران کے حل، محفوظ اور پائیدار شہروں کی تعمیر اور پائیدار ترقیاتی اہداف کے لیے سالانہ چار کھرب امریکی ڈالر سے زائد کے مالیاتی خلا کو پُر کرنے کے لیے فوری اقدامات کا بھی مطالبہ کیا۔







