اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اسلامی تعاون تنظیم کے رابطہ گروپ کے اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری

اسلام آباد ۔ 25 ستمبر (اے پی پی)اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رابطہ گروپ نے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی شناخت اور جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی اقدام عالمی قوانین اور خود بھارتی وعدوں کے برعکس ہیں۔ رابطہ گروپ نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت پر امن مظاہرین کے خلاف طاقت اور پیلٹ گنز …

اسلام آباد ۔ 25 ستمبر (اے پی پی)اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رابطہ گروپ نے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی شناخت اور جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی اقدام عالمی قوانین اور خود بھارتی وعدوں کے برعکس ہیں۔ رابطہ گروپ نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت پر امن مظاہرین کے خلاف طاقت اور پیلٹ گنز کا استعمال بند، کرفیو اٹھانے، تمام اسیروں کو فی الفور رہا کرنے، بھارت کالے قوانین واپس لینے اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو مقبوضہ کشمیر میں رسائی دینے سمیت یکطرفہ اقدامات واپس لے اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری کرے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس کے موقع پر بدھ کو اسلامی تعاون تنظیم کے رابطہ گروپ کے اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری کیا گیا۔ رابطہ گروپ نے اپنے اعلامیہ میں کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدام مسلم اکثریتی علاقے کو ہندو اکثریت میں تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ رابطہ گروپ کا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق اقوام متحدہ ہائی کمشنر کی رپورٹس اور پاکستان کی درخواست پر اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے 16 اگست کے اجلاس کا بھی خیر مقدم کا بھی خیر مقدم کرتا ہے۔ رابطہ گروپ نے اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل کے 8 اگست کے بیان کا بھی خیر مقدم کیا۔ رابطہ گروپ نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ بھارت پر امن مظاہرین کے خلاف طاقت اور پیلٹ گنز کا استعمال بند کرے، کرفیو اٹھایا جائے، تمام اسیروں کو فی الفور رہا کیا جائے، بھارت کالے قوانین واپس لے اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو مقبوضہ کشمیر میں رسائی دے۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ جموں و کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان بنیادی تنازعہ ہے، خطے میں امن و استحکام کیلئے اقوام متحدہ قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے۔ رابطہ گروپ نے مطالبہ کیا کہ بھارت یکطرفہ اقدامات واپس لے اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری کرے۔

مزید خبریں