کراچی کے عوام کو پانی کی فراہمی اور شہر کے بنیادی مسائل کا حل پاکستان پیپلز پارٹی کی اولین ترجیحات میں شامل ہے ، بلاول بھٹو زرداری کا پہلے نئے تعمیر شدہ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ-I کا افتتاح

کراچی کے عوام کو پانی کی فراہمی اور شہر کے بنیادی مسائل کا حل پاکستان پیپلز پارٹی کی اولین ترجیحات میں شامل ہے ، بلاول بھٹو زرداری کا پہلے نئے تعمیر شدہ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ-I کا افتتاح

کراچی ۔3اکتوبر (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گریٹر کراچی سیوریج پلان کے تحت ملک کے پہلے نئے تعمیر شدہ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ-I کا افتتاح کردیاجو شہر کے سیوریج کے پانی کو صاف کرکے دوبارہ قابلِ استعمال بنانے اور کراچی میں پانی کے بحران سے نمٹنے کی جانب ایک گیم چینجر اقدام ہے۔ہفتہ کو میڈیا سیل بلاول ہاؤس کراچی سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے عوام کو پانی کی فراہمی اور شہر کے بنیادی مسائل کا حل پاکستان پیپلز پارٹی کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تاریخی منصوبے کے ذریعے کراچی کے صنعتی اور آبادی والے علاقوں کی پانی کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ شہر، سمندر اور آبی ذخائر میں آلودگی کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کراچی کے لیے ہماری سب سے بڑی ترجیح پانی کا مسئلہ حل کرنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک اور بالخصوص سندھ میں پانی کی قلت کا سامنا ہے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پانی کے مسئلے پر بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ مشکلات کے باوجود سندھ حکومت اور بالخصوص کے ایم سی نے یہ ترجیح طے کی ہے کہ کراچی میں دستیاب پانی کو زیادہ سے زیادہ محفوظ اور قابلِ استعمال بنایا جائے۔ اسی سلسلے میں چند ماہ قبل کیماڑی میں 25 ملین گیلن یومیہ پانی صاف کرنے کی سہولت کا افتتاح کیا گیاجس میں مزید 55 ملین گیلن یومیہ کا اضافہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ آج ایک تاریخی منصوبے کا افتتاح کیا جا رہا ہے۔

کراچی کا سائٹ صنعتی علاقہ پاکستان، کراچی اور ملکی معیشت کے لیے روزگار اور اقتصادی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز ہے۔ اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں 35 ملین گیلن یومیہ پانی صاف کرنے کی سہولت قائم کی جا رہی ہے، جس سے سائٹ صنعتی علاقے کی پانی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کے دوسرے مرحلے میں مزید 65 ملین گیلن یومیہ پانی صاف کیا جائے گا، جس کے بعد مجموعی گنجائش 100 ملین گیلن یومیہ تک پہنچ جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا ایک اہم فائدہ یہ بھی ہوگا کہ گندا پانی صاف کرکے استعمال کے قابل بنایا جائے گا، جس سے سمندر اور پانی میں آلودگی کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ لیاری کے لیے بھی پانی کی فراہمی کا منصوبہ زیرِ غور ہے، جبکہ امید ہے کہ 20 اکتوبر تک لیاری کے عوام کو 10 ملین گیلن اضافی پانی فراہم کرنے کامنصوبہ بھی مکمل ہوگا۔ اسی طرح ڈی ایچ اے کو بھی 10 ملین گیلن پانی فراہم کیا جائے گا، تاہم لیاری کے عوام کو یہ پانی کم قیمت پر فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد کسی ایک علاقے کے لیے نہیں بلکہ پورے شہر کے عوام کے لیے کام کرنا ہے۔ ہمیں کراچی کے عوام کے بنیادی مسائل کا حل نکالنا ہے اور ہر علاقے میں بلاامتیاز ترقیاتی کام کرنا ہے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی وہ واحد جماعت ہے جو آج نہیں بلکہ ہمیشہ کراچی کو ترجیح دیتی رہی ہے اور شہر کے مسائل حل کرنے کے لیے کوشاں رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ خود کراچی میں پیدا ہوئے اور ان کی والدہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو بھی اسی شہر میں پیدا ہوئیں، اس لیے کراچی ان کا اپنا شہر ہے اور وہ اس کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کے-فور منصوبے کے حوالے سے وفاق کا اہم کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح سکھر-حیدرآباد موٹروے بھی ایک اہم منصوبہ ہے۔ یہ موٹروے کراچی کو ملک کی معیشت سے جوڑتا ہے اور اس کی تکمیل سے پوری ملکی معیشت کو فائدہ ہوگا۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کراچی منی پاکستان ہے اور ملک کے ہر شہر اور صوبے کے ساتھ جڑا ہوا ہےبالخصوص خیبرپختونخوا میں اگر کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے اثرات کراچی تک پہنچتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف جو صورتحال ہے، اگر دہشتگردی پر قابو نہ پایا گیا تو اس کے اثرات کراچی سمیت ملک کے دیگرحصوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ اسی لیے پاکستان پیپلز پارٹی دہشتگردی کو انتہائی اہم قومی مسئلہ سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو ایسا سیاسی حل تلاش کرنے کی مکمل کوشش کرنی چاہیے جس کے ذریعے دہشتگردی کازیادہ مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جاسکے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات ہونے چاہئیں۔ احتجاج کرنا ہر سیاسی جماعت کا حق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف سیاسی احتجاج جاری ہے اور دوسری طرف خیبرپختونخوا میں مسلسل دہشتگردی کے واقعات ہورہے ہیں۔ اگر صوبائی حکومت دہشتگردی کے مسئلے کو مطلوبہ اہمیت نہیں دیتی تو ایسی صورتحال میں وفاق کو آئینی راستے اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کی کوشش ہے کہ پی ٹی آئی سے رابطہ کیا جائے اور اسے قائل کیا جائے کہ وہ اپنے لانگ مارچ اور احتجاج ختم کرے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے امید ظاہر کی کہ اسلام آباد میں موجود تمام سیاسی جماعتیں اس وقت جاری مذاکرات کی اہمیت کو سمجھیں گی۔ تمام صوبوں، سیاسی جماعتوں اور پاکستان میں جمہوریت کے مفاد میں ہے کہ ہم ایک مشترکہ سیاسی حل تک پہنچیں تاکہ ایسی صورتحال پیدا نہ ہو جس میں دہشتگردی کے مقابلے کے لیے ایمرجنسی جیسے اقدامات کی ضرورت پیش آئے۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی پاکستان پیپلز پارٹی کی ریڈ لائن ہے۔ پیپلز پارٹی کے کارکنوں سے لے کر قیادت تک نے دہشتگردی کے خلاف جدوجہد میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ اس وقت سیاسی جماعتوں کے درمیان جاری مذاکرات کامیاب ہوں اور ملک میں سیاسی استحکام آئے،سیاسی عدم استحکام نہیں۔ سیاسی استحکام کی صورت میں ہم دہشتگردی کا بھی مقابلہ کریں گے اور ایسے ترقیاتی منصوبے بھی جاری رکھیں گے جو عوام کے حقیقی مسائل حل کریں۔

بلاول بھٹو زرداری نے سندھ کےوزیراعلیٰ، میئر کراچی اور بلدیاتی نظام کی پوری ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے کراچی میں پانی کے مسئلے پر اب تک جتنا کام کیا ہے، کسی اور میئر نے اتنا کام نہیں کیا۔ اگر یہ منصوبے اسی طرح مکمل کیے گئے تو کراچی کے عوام کو بہت فائدہ ہوگا۔ تقریب میں وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب، صوبائی وزراء، ارکان اسمبلی، بلدیاتی نمائندگان، پارٹی عہدیداران اور سیاسی و سماجی شخصیات بھی موجود تھیں۔

مزید خبریں